مضامین ناصر — Page 118
۱۱۸ (۲۰) کسی کے لئے یہ زیب نہیں کہ وہ اپنے علم وفہم سے بالا تر بحثوں میں اُلجھے کہ اس سے فتنوں کے دروازے کھلتے ہیں۔تحقیق اور ریسرچ کا دروازہ تو ہر ایک کے لئے کھلا ہے۔مگر محض فلسفیانہ بخشیں جن کا انسان کی دینی یا دنیوی فلاح کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو ان میں الجھے رہنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔کام کی بات کرو اور زبان کے چسکے سے پر ہیز کرو۔ہماری زبان پر ہمارے خدا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پابندیاں عائد کی ہیں۔ان میں سے ہیں نواہی آپ کے سامنے مختصر طور پر پیش کر دی گئی ہیں۔تفصیلی بحث انشاء اللہ بعد میں ہوگی۔اس سے قبل زبان سے متعلق ہیں نواہی کا ذکر کیا گیا تھا۔اب میں ایسی باتوں کو لیتا ہوں جو زبان سے کرنے کی ہیں۔(۱) خدا تعالیٰ کے ذکر سے اپنے اوقات کو معمور رکھو اور اس کی حمد کے ترانے ہر وقت گاتے رہو۔اس حمد و ثناء میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ کہ ہر کام میں مشغول رہتے ہوئے ہر وقت اس کے ذکر سے زبان کے اعصاب اور دل کی تاروں کو حرکت دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔حمد وثنا کے ہلکے پھلکے بول میزان جزا و سزا میں بڑے ہی وزنی ثابت ہوتے ہیں اور دلوں کے اطمینان کا باعث۔(۲) قرآن پڑھو کہ تلاوت قرآن میں بڑی برکت ہے، قرآن جو اللہ کے ذکر سے بھرا ہوا ہے، قرآن جو ہمارے لئے ایک مکمل ہدایت ہے۔قرآن جو خدائے واحد و یگانہ کی رحمانیت کو حرکت میں لاتا ہے، قرآن جو زبان اور اعمال کی کجیوں کو دور کرتا ہے، قرآن جب ہمارے دل میں اتر تا اور ہماری زبانوں پر جاری ہوتا ہے تو اس کی برکت سے ہماری زندگی کی ساری الجھنیں سلجھ جاتی ہیں۔قرآن دلوں میں تقویٰ پیدا کرتا اور انہیں مظہر بناتا ہے، قرآن خود کلید قرآن ہے۔پس قرآن پڑھو، قرآن پڑھو۔(۳) پیارے نبی ﷺ پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو۔خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی اکرم علی پر ہر آن اور ہر لحظہ درود اور سلام بھیج رہے ہیں۔مظہر صفات الہیہ اور فرشتہ صفت بنو اور اس نبی پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو۔اس کی برکت سے ہماری زبانوں سے حکمت و معرفت کی نہریں جاری ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔الله