مضامین ناصر — Page 91
۹۱ خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر اس امر کی دیکھ بھال کرتے رہیں۔جہاں کہیں اس قسم کے حادثے ہوں وہاں فوری طور پر منظم امداد پہنچا ئیں۔مقامی حکام سے رابطہ پیدا کر کے غرباء کی مدد کریں۔گزشتہ سال سیلاب کے ایام میں خدام الاحمدیہ نے متعدد مقامات پر اس قسم کی مددکی تھی۔ابھی سے انہیں ہوشیار رہنا چاہیے۔اس بارہ میں اپنے پروگرم بنالینے چاہئیں تا وقت پر سہولت سے کام ہو سکے۔جن مقامات کے قریب دریا بہتے ہیں یا جو سیلاب کے وقت اس کی زد میں آسکتے ہیں وہاں پر خدام کو خاص طور پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ان حادثات کی زد میں جو لوگ بھی آتے ہیں ان سب کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔اس قسم کے حادثات کے پیش آنے پر فوری طور پر امدادی کام شروع کر دینا چاہیے اور مرکز کوفوری طور پر اور صحیح حالات کی اطلاع دینی چاہیے۔مرکز میں بیرونجات سے آمدہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس پیغام کے پہنچتے ہیں مجلس خدام الاحمدیہ کے ایثار پیشہ ارکان نے متعدد مقامات میں یہ کام شروع کر دیا ہے۔مثلاً لائکپور کی مجلس کے متعلق معاصر نوائے وقت نے اپنی ۲۵ اور ۲۶ جولائی کی اشاعتوں میں یہ دو اطلاعات شائع کی ہیں کہ۔کپور ۲۲ / جولا ئی شعبہ خدمت خلق خدام الاحمدیہ لائکپور کی اطلاع کے مطابق لیبر کالونی میں طالب حسین ، عاشق حسین اور کرم بی بی کے بارش سے منہدم مکانات کی مرمت میں امداد دی گئی۔اس ادارے کے کارکن کل محلہ اسلام آباد میں یہ خدمت سرانجام دیں گئے۔انکپور ۲۴ جولائی۔آج خدام الاحمدیہ کے چودہ افراد کی ایک پارٹی نے اسلام آباد اور مائی دی جھگی میں بارش سے منہدم مکانات کی مرمت میں مکینوں کا ہاتھ بٹایا۔انجمن نے متاثرہ آبادیوں کے غرباء سے اپیل کی ہے کہ ان کی خدمات سے استفادہ کریں اور خدام الاحمدیہ کے شعبہ خدمت خلق کو اطلاع دیں۔خدمت خلق کی یہ مساعی قابل تحسین بھی ہے اور قابل رشک بھی۔مگر ہم یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسلام اور احمدیت کا نظریہ خدمت دنیا بھر کے نظام ہائے اخلاق ، تمدن و سیاست اور روحانیت واقتصاد سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی قلم نے اسے بے حد لطیف پیرایہ میں