مضامین ناصر — Page 92
اُجاگر کیا ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں۔۹۲ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى (النحل: ٩١) یعنی خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں۔کشتی نوح صفحہ ۲۸۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۰) یا در رکھیے مجلس خدام الاحمدیہ اس بلند مقام اور نصب العین کی دعوت دینے کے لئے اٹھی ہے اور اپنے قیام کے دن سے اس دعوت پر عمل پیرا ہے۔لہذا اب جبکہ ہمارے ملک میں سیلاب اور بارشیں ہر طرف منڈلا رہے ہیں۔مجلس کے ارکان کا اولین فرض اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اسلامی خدمت کے اس پاک جذبہ سے معمور ہو کر آگے بڑھیں اور دنیائے الفت و محبت میں ایک ایسی مثال قائم کر دیں کہ آسمان کی تقدیریں بدل جائیں اور زمین عدل و انصاف کی شمعوں سے جگمگا اٹھے۔بالآخر ہمیں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس مجرم ہوں گی اگر وہ اپنی قابل قدر سرگرمیوں سے ملکی پریس کو بے خبر رکھنے کی کوشش کریں گی کیونکہ قوم کے دوسرے افراد میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لحاظ سے اس امر کی اہمیت اصل کام سے بہر حال کسی طرح کم نہیں۔اور یہ مرحلہ ایسا ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ افراد کی شمولیت ہی وسیع نتائج پیدا کر سکتی ہے۔(ماہنامه خالد اگست ۱۹۵۵ء) ☆☆