مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 76 of 239

مضامین ناصر — Page 76

24 مال روک رکھنے کی ممانعت (ج) اسلام نے ایک حکم یہ بھی دیا ہے کہ تم مال کو روک کر نہ رکھو کہ جب مہنگا ہوگا اور قیمت زیادہ ہوگی اس وقت ہم اس مال کو فروخت کریں گے۔یا د رکھنا چاہیے کہ خود مال کو روک رکھنے سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔جب مانگ زیادہ ہو لیکن اشیاء مطلوبہ اس کی نسبت سے کم ہوں تو قیمتیں بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔خریداروں میں مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔امیر جو زیادہ قیمت خرچ کر سکتے ہیں وہ زیادہ قیمت دے کر ایسی اشیاء کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور غریب ایسی چیز کو خرید کے بھی گھاٹے میں رہتا ہے اور نہ خرید کے بھی۔قیمتیں گرانے کی ممانعت (و) پھر اسلام نے قیمتیں گرانے کی بھی ممانعت کی ہے ظاہر ہے کہ ایک امیر تاجر ہی جس کی آمد کے ایک سے زائد ذرائع ہوں نا مناسب اور نا جائز حد تک کسی ایک چیز کی قیمت گرا سکتا ہے۔کسی ایک شے میں نفع نہ لینا یا ایک حد تک نقصان برداشت کر لینا ایسے تاجر پر کوئی بڑا بار نہیں۔اس کی آمد کے اور ہزاروں ذریعے ہیں لیکن اس کے نتیجہ میں وہ غریب تاجر یقیناً دیوالیہ ہو جائیں گے جو اپنی ضروریات زندگی بھی بمشکل اس تجارت سے حاصل کر رہے ہوں گے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آپ بازار کا دورہ کر رہے تھے کہ ایک باہر سے آئے ہوئے شخص کو دیکھا کہ وہ خشک انگور نہایت ارزاں قیمت پر فروخت کر رہا تھا۔جس قیمت پر مدینہ کے تاجر انہیں فروخت نہ کر سکتے تھے۔آپ نے اُسے حکم دیا کہ یا تو اپنا مال منڈی سے اٹھا کر لے جائے یا پھر اُسی قیمت پر فروخت کرے جس مناسب قیمت پر مدینہ کے تاجر بھی ایسے انگور فروخت کر سکتے تھے۔جب آپ سے اس حکم کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے جواب دیا کہ اگر اس طرح اسے فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تو مدینہ کے تاجروں کو جو مناسب قیمت پر مال فروخت کر رہے ہیں نقصان پہنچے گا۔