مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 66 of 239

مضامین ناصر — Page 66

۶۶ ان کا کوئی ٹھکانا نہیں۔اگر روسی حکومت مارکس کے اصول پر ہی قائم ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مارکس کے اصول عوام کی اقتصادی حالت کو سدھار سکے ہیں نہ ان میں مساوات قائم کر سکے ہیں۔مزدور کی حالت کو سدھار اس لئے نہیں کہ آج بھی روس کا مزدور نہایت تنگی کی زندگی گزار رہا ہے۔اس کی اوسط آمد قوت خرید کے لحاظ سے چھپیں تمہیں روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں۔آج ہندوستانی مزدور اس سے کہیں زیادہ کماتا ہے۔پھر بھی اُسے تن ڈھانکنے کو کافی کپڑا میسر نہیں آتا۔بسا اوقات پیٹ کاٹنا ہی پڑتا ہے۔چہرہ پر مُردنی کے آثار چھائے رہتے ہیں۔روسی مزدور کا کیا حال ہوگا۔ہم اندازہ تو کر سکتے ہیں۔مگر وثوق سے کچھ کہہ نہیں سکتے۔غیر ممالک میں رہنے والوں کو جن روسیوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے۔وہ یا تو گورنمنٹ کے افسر یا فوج کے سپاہی ہیں۔ان لوگوں کی اقتصادی حالت اور ان کی اقتصادی حالت سے روسی عوام کا اندازہ لگانا درست نہیں۔روبل کی پراپیگینڈا قیمت اس موقع پر روبل کی قیمت کے متعلق کچھ کہنا ضروری ہے۔روسی حکومت نے ایک پونڈ کی چھبیس روبل قیمت رکھی ہے۔اس لحاظ سے ایک روبل کی قیمت آٹھ آنہ بنتی ہے۔اس لحاظ سے روسی مزدور کی اوسط تنخواہ ایک سو پچیس روپے ماہانہ بنتی ہے۔مگر یہ اس کی محض پراپیگنڈہ قیمت ہے۔کیونکہ کسی سکہ کا کسی دوسرے سکہ کے مقابلہ میں مبادلہ اور چیز ہے اور قوت خرید کے لحاظ سے اس کی قیمت اور شے ہے۔اگر ہم قوت خرید کے لحاظ سے روبل پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۳۷ء ۱۹۳۸ء میں ایک سیر آٹے کی قیمت روس میں چار روبل تھی۔اور انگلستان میں پانچ پنس۔اور لاہور میں ایک آنہ۔دیگر اشیاء خوردنی میں بھی کم و بیش ایسا ہی فرق ہے۔پس جہاں تک اشیاء خورونوش کا سوال ہے قوت خرید کے لحاظ سے ایک روپیہ بارہ روبل کے برابر بنتا ہے۔اگر کپڑے وغیرہ کو مدنظر رکھا جائے تو ایک روپیہ دس روبل کے برابر بنتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اتنا زیادہ فرق نہ ہو۔اس لئے اگر ہم سب اشیاء کو ملا کر قوت خرید کے لحاظ سے ایک روپیہ آٹھ روبل کے برابر سمجھیں۔یعنی ایک