مضامین ناصر — Page 60
عجیب بات ہے کہ دنیا میں آج ایک ہی حکومت ہے جس کا یہ دعوی ہے کہ وہ مارکس کے اصول پر قائم ہے۔مگر خود یہی حکومت عملاً اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ مارکس کے اقتصادی اصول کم از کم مذکورہ بالا اصول ) نا قابل عمل ہیں۔روس کی ساری تحریک اسی وجہ سے اتنی نا کام ہوئی ہے کہ وہ اس دوسرے اصول پر عمل پیرا ہوئے۔(۴) نفع ممنوع اور سود جائز نفع کو ممنوع قرار دیا۔اس لئے کہ ان کے نزدیک نفع پر رو پیدلگا کر سرمایہ دار مزدوروں کو لوٹتے ہیں۔مگر سود کو جائز قرار دے دیا۔حالانکہ نفع میں مزدور کے لوٹے ہوئے مال کا اتنا حصہ نہیں۔جتنا کہ سود میں ہے۔نفع پر روپیہ لگا کر کام کرنے والا چونکہ خود اس کام میں شریک ہوتا ہے۔اس کی نگرانی اور تنظیم میں عملاً حصہ لیتا ہے اس نے نفع میں اس کی محنت کا بھی ایک حصہ ہے جس کے معاوضہ کا وہ حق دار ہے اور جسے خود روسی اشتراکیت بھی ناجائز قرار نہیں دیتی۔مگر سود پر روپیہ دینے والا سودی رقم کے ایک فیصدی کا بھی حق دار نہیں۔کیونکہ اس نے اس کام میں جس پر سودی روپیہ لگایا گیا ہے عملاً کوئی حصہ نہیں لیا۔پس جو رقم بھی وہ بطور سود حاصل کرتا ہے۔وہ ساری کی ساری مزدور کا لوٹا ہوا مال ہے۔جس کی حفاظت کے لئے حکومت مزدوراں قائم کی گئی تھی۔مگر جس کے مال کو خودلوٹ کر حکومت مزدوراں اس شخص کے حوالہ کرتی ہے جس سے اس نے سودی روپیہ لیا ہے۔۱۹۲۱ء میں خود روسی حکومت کے اقرار کے بموجب ( روسی وزیر مالیات کی تقریر جو اس نے سپرین سویٹ کے سامنے فروری ۱۹۴۱ء میں کی) تیرہ ارب روپیہ حکومت نے لوگوں سے قرض لیا۔اگر وہ تھوڑی شرح پر بھی سود دیتے ہوں۔تو کم از کم ۲% تو ضرور دیتے ہوں گے۔۲% کے حساب سے ۱۹۴۱ء میں حکومت نے ۲۶ کروڑ روپیہ بطور سود مختلف لوگوں کو دیا۔یہ ساری کی ساری ایسی رقم ہے۔جسے اشترا کی نظریہ کی رو سے مزدوروں کا لوٹا ہوا مال سمجھنا چاہیے مگر نفع کی یہ اجازت نہیں دے سکتے۔Webb اپنی مشہور کتاب Soviet Communism V2