مضامین ناصر — Page 61
۶۱ P1122 میں لکھتا ہے۔روسی حکومت ایسے لوگوں کو شاباش دینے کی بجائے جو ایک جگہ سے چیز خرید کر دوسری جگہ اسے نفع پر بیچتے ہیں۔انہیں مجرم گردانتی اور اس جرم پر انہیں سزا دیتی ہے۔اور اسی جگہ ذرا آگے چل کر وہ کہتا ہے ” حکومت کا اپنے قرضوں پر سود ادا کرنا اور سیونگز بنک میں روپیہ جمع کرا کے اس پر سود لینا منع نہیں۔یہ اب بھی ہو رہا ہے“۔عقل سلیم کے نزدیک تو بعض حد بندیوں کے ساتھ نفع کی اجازت ہونی چاہیے۔کیونکہ اپنے حدود کے اندر رہتے ہوئے اس کے نتیجہ میں کسی دوسرے پر ظلم نہیں ہوتا اور سود کو ناجائز قرار دینا چاہیے۔اس سے بہت سی اقتصادی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔جن کا ذکر آگے کیا جائے گا۔انشاء اللہ (۵) ورثہ نا جائز اقتصادی مساوات کے قیام کے لئے مارکس نے چوتھا اصول یہ قائم کیا کہ مرنے والے کا مال اس کی وفات کے بعد اس کے اعزاء واقارب میں تقسیم نہ ہو۔کیونکہ اس طرح ورثہ حاصل کرنے والوں کو نہ کسی ضرورت کے پیش نظر یہ مال ملے گا اور نہ کسی کام کے معاوضہ میں۔اگر ورثہ کے اصول کو تسلیم کر لیا جائے۔یا کم از کم اگر اس اصول کو مارکس کے دماغی خطرات کے ساتھ تسلیم کر لیا جائے تو پھر دولت بعض ہاتھوں میں جمع ہونی شروع ہو جائے گی۔امیر و غریب کی تفریق قائم ہو جائے گی۔ان کی درمیانی خلیج وسیع تر ہوتی رہے گی اور ہو سکتا ہے کہ چند نسلوں کے بعد سرمایہ دار ملکوں کی طرح اشترا کی حکومت میں بڑے بڑے مالدار اور سرمایہ دار پیدا ہو جائیں۔1847۔Communist Manifecto P میں جس کی تشکیل میں مارکس اور Engets دونوں کا حصہ ہے۔جماعت مزدوراں کا تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ تمام حقوق وراثت کو ناجائز قرار دیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ فی نفسہ ورثہ اقتصادی لحاظ سے اچھے نتائج پیدا کرتا ہے نہ کہ برے۔اگر ورثہ کی تقسیم کے اصول اچھے ہوں گے تو نتائج اچھے نکلیں گے۔اگر ورثہ برے اصول پر تقسیم کیا جائے گا تو برے نتائج پیدا ہوں گے۔ورثہ کو فی نفسہ بُرا قرار دینا ایک حماقت ہے۔جس کے نتیجہ میں اشتراکیت ان اچھے نتائج کے