مضامین ناصر — Page 59
(۳) ضرورت کے مطابق آمد ۵۹ ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق اشیاء مہیا کی جائیں۔( بیج نرائن صفحہ ۱۸۲) ظاہر ہے کہ اگر اس نظر یہ کوعملی جامہ پہنایا جائے تو کام کا شوق اور اس کی رغبت روز بروز کم ہوتی چلی جائے گی۔جب ایک شخص تھوڑا کام کر کے بھی اپنی تمام ضروریات حاصل کر سکتا ہو تو وہ کیوں خواہ مخواہ زیادہ مشقت برداشت کرے۔کہنے کو تو ایم لارن نے ۱۹۲۰ء میں بڑے فخر سے اس بات کا اظہار کیا کہ روسی حکومت نے مزدوریاں اجناس میں تقسیم کر کے مارکس کے اصول کو عملی جامہ پہنایا ہے۔مگر تجربہ نے روسی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ اس طرح کام نہیں کیا جا سکتا اور انہیں مجبور ہو کر ضرورت کے مطابق مزدوری کی بجائے کام کے مطابق مزدوری دینی پڑی۔اگر الف ایک حصہ کام کرتا ہے اور ب دس حصہ۔تو روسی حکومت باوجود اس کے الف کی ضرورت ب کی نسبت دس گنا زیادہ ہے۔ب کو الف کی نسبت دس گنا مزدوری دیتی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ذاتی منافع کا خیال انسانی فطرت کا ایک جزو ہے۔جب تک ذاتی منفعت سامنے نہ ہو۔کوئی شخص شوق اور رغبت سے کسی کام میں دلچسپی نہیں لے سکتا۔مارکس کا مذکورہ بالا اصول فطرت انسانی کے اس حصہ کو نظر انداز کر رہا ہے اور اسی لئے روسی حکومت مزدوراں اسے عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اور اسے مجبوراً فطری اصل کی طرف واپس آنا پڑا۔اگر وہ مذکورہ بالا اصول پر قائم رہتی تو یقیناً ملکی پیداوار بڑھنے کی بجائے گرتی چلی جاتی۔آج جو روس کو اس بات پر فخر ہے کہ ملکی پیداوار آگے کی نسبت دس ہیں گنا زیادہ ہوگئی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ مارکس کے اصول پر گامزن ہے۔اس کی وجہ یقینا یہ ہے کہ انہوں نے مارکس کے اصول کے خلاف اصول فطرت کو اپنا لائحہ عمل بنایا۔بجائے اس کے کہ وہ اپنا یہ اصول بناتے کہ ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے۔انہوں نے اپنا یہ اصول بنایا کہ ہر ایک کو اتنا دیا جائے جتنا وہ کام کرتا ہے چنانچہ خود I Godov نے اپنے مضمون روسی حکومت میں کام اور مزدوریاں میں اسے تسلیم کیا ہے۔(U۔S۔S۔R Speaks for Itself p۔102)