مضامین ناصر — Page 58
۵۸ ایک اہل تقدیر ہے جو صرف ایک ملک میں نہیں بلکہ سارے ممالک میں ہوکر رہے گی۔مزدور کے اقتدار حاصل کر لینے پر ایک نیا اقتصادی نظام قائم ہوگا۔جس کا مقصد یہ ہوگا کہ اقتصادی تفریق کو مٹا کر اس کی جگہ اقتصادی مساوات قائم کی جائے۔اقتصادی مساوات کے قیام کے ذرائع مارکس نے اقتصادی مساوات کے قیام کے لئے مندرجہ ذیل ذرائع بتائے ہیں۔(۱) پیداوار اور ذرائع پیداوار پر قبضہ حکومت مزدوراں تمام پیداوار، ذرائع پیداوار یعنی ساری زمینوں اور سب کارخانوں پر قبضہ کرے اس طرح گویا سب کے سب قلاش بن کر مساوی ہو جائیں گے۔(۲) طاقت کے مطابق کام حکومت مزدوراں ہر ایک سے اس کی طاقت کے مطابق کام لے۔جو کام کرنے سے انکار کرے بھوکا مرے۔بظاہر یہ ایک پسندیدہ اصول ہے۔نکما بیٹھ رہنا فطرت کے بھی خلاف ہے اور تمدنی اصول کے بھی منافی مگر کام کی جو تعریف ان لوگوں کے نزدیک ہے وہ قابل قبول نہیں۔مثلاً یہ لوگ تبلیغ دین کو کام تصور نہیں کرتے۔ان کی حکومت میں ہر وہ شخص جو سچائی کے پھیلانے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دے۔ایک ناکارہ وجود ہے۔جس کی ان کے نزدیک کوئی قیمت نہیں اور جسے بہر حال یا تو اپنے دینی جوش کو چھوڑ نا ہوگا یا جام شہادت پینا پڑے گا۔حکومت مزدوراں میں ایک مزدور اپنے کتے کو تو روٹی دینا جائز قرار دیتا ہے مگر ایک مبلغ کے سامنے اپنے دستر خوان کے بچے ہوئے ٹکڑے بھی رکھنا پسند نہیں کرتا۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پسند کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حکومت ایسے شخص کو باغی قرار دے گی اور اسے بغاوت کی سزا بھگتنی پڑے گی۔