مضامین ناصر — Page 51
۵۱ باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے“ (تذکرہ صفحہ ۱۳۹) وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ کے مقابلے میں فرمایا کہ ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے“ جو الفاظ بدر کے متعلق قرآن مجید میں آئے ہیں مصلح موعود کی پیشگوئی کے الفاظ بعینہ اُس کا ترجمہ معلوم ہوتے ہیں اور جو غرض بدر کی بیان فرمائی گئی ہے کہ اس سے اسلام کی جڑوں کو مضبوط کر دیا جائے گا اور کفر کی جڑوں کو کاٹ کر رکھ دیا جائے گا۔وہی مقصد مصلح موعود کے ظہور کا بیان کیا گیا ہے۔الہی نصرت (۳) بدر کے موقع سے لے کر احزاب تک اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعہ مدد کر نے کے تین وعدے فرمائے ہیں۔(۱) آنِى مُمِدُّكُمْ بِأَلْفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُرْدِفِيْنَ (الانفال: (۱۰) کہ میں ایک ہزار ملائکہ سے تمہاری مدد کروں گا۔(ب) آنْ تُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَثَةِ الفِ مِنَ الْمَلَيْكَةِ مُنَزَلِينَ (ال عمران : ۱۲۵) که خدا تین ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئے گا۔( ج ) يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ الفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُسَوَّمِيْنَ (ال عمران: ۱۲۶) کہ خدا تعالیٰ پانچ ہزار نشان شدہ فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا۔جب ہم مصلح موعود کے زمانے پر نظر ڈالتے ہیں تو اس زمانے میں بھی خدا تعالیٰ نے اسی طرح آپ کی مدد فرمائی۔(۱) جب ملکانہ میں ارتداد کا فتنہ زوروں پر تھا تو اس وقت حضرت مصلح موعود نے اسلام کی حفاظت کے لئے جماعت کو دعوت دی اور کفر کے مقابلے کے لئے اس وقت تقریباً ایک ہزار رضا کار آگے آئے اور انہوں نے ان تیروں کو اپنے پر لیا جو دشمن اسلام کے قلب پر مارنا چاہتا تھا۔اس طرح وہ فتنہ ہمیشہ کے لئے مٹا دیا گیا۔بدر کے زمانے میں یقیناً ایک ہزار ملائکہ مسلمانوں کی مدد کے لئے نازل ہوئے تھے مگر مخالفوں نے یہی کہا ہوگا کہ وہ فرشتے کون تھے۔اور کہاں سے آئے تھے اور انہوں نے کیا کیا۔باتیں ہماری سمجھ سے بالا ہیں۔خدا تعالیٰ نے اسلام کے دور ثانی میں مصلح موعود کے زمانہ کو بدر کے زمانہ سے مشابہت دے کر ظاہری صورت میں بھی اس نشان کو پورا کر دیا۔دشمنوں نے اسلام پر حملہ کروایا اور