مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 239

مضامین ناصر — Page 39

۳۹ یعنی اے میرے مومن بندے بیشک اشاعت اسلام کی خواہش تو پسندیدہ ہے مگر کیا تو مجاہدہ نفس کی منازل طے کر چکا ہے؟ کیا تو نے توحید کامل کو پالیا ہے جس کا قرآن تجھے سبق دیتا ہے؟ بندہ جوا با عرض کرتا ہے کہ ہاں میرے خدا میں نے اپنی طاقت کے مطابق اطاعت کامل کو اختیار کیا ہے۔کیا تو نے دوسرے حقوق اللہ کو پورا کیا ہے؟ بندہ عرض کرتا ہے ہاں میرے رب اپنی استطاعت کے مطابق میں نے ایسا کیا ہے۔کیا تو نے اپنے اعمال کو درست کیا ہے؟ بندہ عرض کرتا ہے ہاں میرے رب میں نے اپنی طاقت کے مطابق ایسا کیا ہے۔تب خدا کہتا ہے کہ اے میرے بندے جا اور دنیا کے سامنے اپنا نمونہ پیش کر اور انہیں بتا کہ اسلامی تعلیم نے مجھے یہ بنا دیا ہے خدا مجھ سے راضی ہے تمہارے ساتھ میرا سلوک اچھا ہے۔اگر تم بھی ایسا بنا چاہتے ہو تو آؤ اسلامی تعلیم پر عمل کرو لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب:۲۲)۔اور جب تو نے دوسروں کے سامنے اپنا نمونہ پیش کر کے انہیں تبلیغ کی اور اسلام کی طرف بلایا تو تو نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا۔مگر ساری دنیا ابوبکر صدیق کے رنگ کی نہیں ہوتی جو اُسوہ سے فائدہ اٹھا سکے۔کچھ لوگ عمر کی طرز کے بھی ہوتے ہیں جنہیں منوانے کے لئے دلائل عقلیہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے فرمایا وَ جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا قرآن کریم دلائل عقلیہ سے بھرا پڑا ہے۔اسلامی تعلیم کی حقانیت ان دلائل عقلیہ سے ثابت ہوتی ہے۔جولوگ دلائل عقلیہ کے محتاج ہیں ان کے سامنے یہ دلائل پیش کر اور ان دلائلِ بینہ کے زور سے اسلام کی طرف بلا۔پس اسلام نے تبلیغ کے دو طریق بتائے ہیں اول اسوہ حسنہ یعنی اپنے اخلاق و اعمال کو قرآنی رنگ میں رنگین کر لینا۔دنیا خود بخود اسلام کی طرف کچھی چلی آئے گی۔دوم ان دلائل عقلیہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنا جن سے قرآن کریم نے اپنی صداقت ثابت کی ہے۔اسلام کی طرف بلانے کے صرف اور صرف یہ دو طریق ہیں۔کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ لوگوں کو اسلام کی طرف ڈنڈے سے ہانک کر لاؤ۔اگر لوگ تمہارے اُسوہ حسنہ کو دیکھیں اور آنکھیں بند کر لیں، اگر وہ ان دلائل عقلیہ کوسنیں اور