مضامین ناصر — Page 27
۲۷ تیار کرتا ہے اور ان کی کارروائیوں کا خلاصہ چار الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔(۱) ضِرار۔یعنی وہ منافقانہ کام ایسے ہوتے ہیں جن سے منافقین کا مطلب اپنے ذاتی جھگڑوں کا بدلہ لینا ہوتا ہے۔یعنی منافقین کو شکایت ہوتی ہے کہ بیت المال میں سے ہمیں کافی حصہ نہیں ملتا۔تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں یا ہمارے رشتہ داروں کو کارکن نہیں مقرر کیا جاتا اور اس حرص اور ذاتی اور وہمی شکایتوں کی بنا پر منافقین ایسے منصوبے سوچتے ہیں جن سے جماعت کو نقصان پہنچے۔نیز ضرار کے یہ معنے بھی ہوں گے کہ منافقین کے کام جماعت کے خلاف ایسے ہوں گے کہ جماعت کو ان میں نقصان ہوگا۔مگر اس میں ان کا اپنا بھی فائدہ نہ ہوگا۔مثلاً پولیس میں بغیر اجرت یا موہوم اجرت کے بدلہ میں سلسلہ کے متعلق جھوٹی رپورٹیں دینا وغیرہ۔(۲) دوسرے كفرًا۔علیحدہ مسجد یا کلب بنانے کی یہ غرض ہوگی کہ تا مومنین سے ان کی حرکتیں پوشیدہ رہیں اور اندر ہی اندروہ اپنے منافقانہ لائحہ عمل کو پورا کرتے رہیں۔اور جہاں تک ان کے منافقانہ لائحہ عمل کا تعلق ہو گا وہ کفر کی تعریف کے نیچے آنے والا ہو گا یعنی ان لوگوں پر سلسلہ اور خلیفہ وقت کے احسان ہیں۔ان منافقین کا منافقانہ عمل اس احسان اور نعمت کا کفران ہوگا۔مثلاً سلسلہ کی طرف سے تنخواہ لے کر کام کرتے رہو پھر جب بھا گو تو قرآن کریم کا ترجمہ ساتھ لے بھا گواوراس کی اشاعت سے جو آمد ہوا سے ذاتی مال سمجھ کر کھا جاؤ۔یا اگر سلسلہ کی کسی تعلیم گاہ کے افسر اعلیٰ ہوتو تنخواہ تو بیت المال سے لو اور تعلیم دیتے وقت بچوں کو منافقانہ باتوں کی تلقین کرو جو اس تعلیم کی غرض کو فوت کرنے والی ہوں وغیرہ وغیرہ۔(۳) وَتَفْرِيقًا منافقین کی کارروائیوں کی تیسری شق ان اعمال پر مشتمل ہوگی جس کے نتیجہ میں جماعت میں تفرقہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو اور اس طرح منافقین کی یہ کوشش ہوگی کہ اس اتحاد کو جو نبی کے ذریعہ قائم کیا جاتا ہے اور اس برادری اور اخوت کو جو نبی کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہے کمزور کر دیا جائے مثلاً تقسیم مال پر اعتراض کر کے (يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَتِ (التوبة: ۵۸) یادین کی باتوں میں ہنسی کر کے اور ٹھٹھے سے کام لے کر وغیرہ وغیرہ۔(۴) وَارْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ مِن قبل (التوبة: ۱۰۷) تا ان لوگوں کو جو اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ رہے تھے۔حملہ کا ایک نیا ٹھکا نہ مل جائے۔یعنی اس دوا ینٹ