مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 239

مضامین ناصر — Page 26

۲۶ حاجتمندوں کی تکالیف کا علم حاصل کرتے اور ان کے دور کرنے کے ذرائع استعمال کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں۔مگر یہ کہنا بالکل خلاف واقعہ ہو گا کہ پہلے خلفائے راشدین چھپ چھپ کر منافقین کی تکالیف معلوم کیا کرتے تھے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن سلول کی تکالیف کا چھپ چھپ کر علم حاصل کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا (النساء:۵۳) که تو اس دنیا میں مومنین میں سے کسی کو منافقین کی (ان کی منافقت کا علم ہوتے ہوئے ) مدد کر تے نہ پائے گا، پس کیا وہ جلیل القدر ہستیاں قرآنی حکم کے خلاف عمل کیا کرتی تھیں۔منشی فخر الدین کا پہلے خلفاء کا اس رنگ میں ذکر کرنا اگر دھوکہ دہی نہیں تو جہالت ضرورت ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَنْ يُصِيْبَكُمُ اللهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِمَ أَوْ بِأَيْدِينَا (التوبة:۵۲) جولوگ یہ امید رکھتے ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ منافقین کو ان کے ہاتھوں سے عذاب دلوائے ان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ چھپ چھپ کر ان منافقین کی تکالیف معلوم کیا کرتے تھے صریح ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔پندر ہوئیں علامت پندرہویں علامت یہ ہے کہ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَ تَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ (التوبة: ١٠٧) یعنی جن لوگوں نے رسول خدا کے مقابل پر ایک مسجد ضرار بنائی ہے جس کی غرض یہ ہے کہ رسول خدا اور مومنوں کو تکلیف میں ڈالا جائے اور رسول کا کفر کیا جائے اور مومنوں کے اندر تفرقہ پیدا کیا جائے اور دشمنان خدا کو اسلام کے خلاف ایک اڈا جمانے کا موقع دیا جائے۔یہ لوگ بڑی بڑی غلیظ قسمیں کھائیں گے کہ ان کی نیت نیک ہے اور ان کی غرض سوائے اصلاح کے اور کچھ نہیں مگر اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے اور کذاب ہیں۔یہاں مسجد ضرار کے ذکر میں اس آیت کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی گونا گوں منافقانہ کوششوں کا ذکر فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے ایک مسجد ضرار بنا رکھی ہے یا دوسرے الفاظ میں منافقین کی کلب بنائی ہے جہاں منافقین کا گروہ اکٹھا ہو کر منافقانہ منصوبے سوچتا اور منافقانہ پروگرام