مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 239

مضامین ناصر — Page 23

۲۳ سرے سے ہی انکار کر جاتے ہیں اور دلیری سے کہہ دیتے ہیں خدا کی قسم ہم نے تو ایسا نہیں کہا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ منافق کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا (التوبة : ۷۴ ) وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسی باتیں نہیں کہیں۔یعنی بعض دفعہ تو وہ یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔( جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ جنسی میں ایسی بات ہوگئی ہوگی۔اور جب سمجھیں کہ یہ حربہ بھی کارگر نہ ہو گا تو صاف جھوٹ بول دیتے ہیں اور صاف انکار کر دیتے ہیں کہ ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں۔منشی فخر الدین صاحب نے بھی اس قسم کا جھوٹ بولنے میں منافقانہ دلیری سے کام لیا۔(شاید یہی ایک میدان ہے جس میں منافق دلیر ہوتا ہے ) چنانچہ انہوں نے دورانِ گفتگو میں اشتہار کے متعلق سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور سید عز یر اللہ شاہ صاحب سے کہا۔اَسْتَغْفِرُ الله - نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِك جو بھی ایسی ایسی حرکات ظہور میں آئیں۔وہ ضروری نہیں ہیں کہ میری طرف سے ہوں۔مجھ کو بدنام کرنے کے لئے دوسرے دشمن ایسی ایسی باتیں میری طرف منسوب کرتے ہیں۔جب بھی ایسی حرکات ظہور میں آئیں تو کیا ان الزامات کے صحیح ہونے کا میں ہی ذمہ دار ہوں۔میری طرف سے لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین ہے۔“ ( الفضل ۲۶ / جون ۱۹۳۷ء) حالانکہ بعد میں واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ تھا۔دراصل اس میں خلاف واقعہ باتیں کوئی نئی چیز نہیں۔غیر مبایعین کی تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر اب تک اس منافقانہ دروغ گوئی سے پر نظر آئے گی۔بارہویں علامت بارہویں علامت منافقین کی یہ قرار دی کہ گو زبان سے یہ گروہ ہمیشہ دعویٰ کرتا رہتا ہے کہ ہم مومن ہیں۔ہم تم میں سے ہیں۔مگر ان کے دل میں چور ہوتا ہے۔اور يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ