مضامین ناصر — Page 22
کمزوری ایمان اور ذاتی کوتاہیوں یا فطرتی کمزوری کے سالک کے بغیر طے کرنی مشکل ہیں۔مگران لوگوں نے گمراہی کا طریق اختیار کیا۔کیا انہیں علم نہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑائی مول لیتا ہے اس کا انجام نار جہنم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔چاہیے کہ یہ بھی اور پہلے منافقین بھی تو بہ اور استغفار سے کام لیں اور غضب الہی کو خریدنے والے نہ بنیں۔دسویں علامت دسویں بات منافقین کے متعلق یہ فرمائی کہ ان میں ایک کمینہ بخل پایا جاتا ہے۔وَيَقْبِضُوْنَ أَيْدِيَهُمُ (التوبة : ۶۷) اب منافقین اور ان کی زندگیاں احباب جماعت کے سامنے ہیں۔ان میں سے اکثر میں تو یہ بیماری اس قدر نمایاں ہے کہ جسے بھی ان کی زندگی کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہو گا۔اسے اس بات میں ذرہ بھی شک نہ ہو گا۔اور جن میں یہ بیماری بظاہر اتنی نمایاں نہیں۔اگر ان کے حالات کا قریب سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ لوگ بھی حقیقی سخاوت سے محروم کئے گئے ہیں۔کیونکہ یہ ایک خود غرض گروہ ہے جو اگر کہیں سخاوت بھی کرتا دیکھا جائے تو اس کے پردے میں بھی اپنی ہی بھلائی ڈھونڈ رہا ہو گا اور ایک دور بین نگاہ سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہے گے۔نمونہ کے طور پر ایک مثال حال کے منافقین کی ہی دیکھیں۔اور دوسروں کو اس پر قیاس کر سکتے ہیں۔مکرمی محتر می ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے اپنی ۴ جولائی والی تقریر میں مصری صاحب کے متعلق کہا کہ ایک شخص پرسوں مجھ سے ذکر کر رہا تھا کہ میں دس سال تک ان کا دوست رہا۔مگر اس عرصہ میں انہوں نے پانی کا ایک گلاس تک کبھی مجھے نہ پوچھا"۔گیارہویں علامت گیارہویں علامت منافق کی یہ بتائی کہ جب کوئی نفاق کی بات ان کے منہ سے نکلے یا کوئی منافقانہ عمل ان سے سرزد ہو اور اس کے متعلق رسول یا اس کا جانشین تحقیق کرائے تو بعض دفعہ منافق