مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 232 of 239

مضامین ناصر — Page 232

۲۳۲ اپنی زندگیوں کو ڈھالے گی اللہ تعالیٰ ان میں نبی کا خلیفہ بناتا رہے گا اور اس انتخاب کو اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ میں رکھے گا۔جس طرح اس سے قبل اس نے بنی اسرائیل میں انبیاء کے انتخاب کو اپنے ہاتھ میں رکھا تھا۔مسنداحمد بن حنبل میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ مُقْمِصُكَ قَمِيصًا فَلَا تَخْلَعُهُ “ ( جلد ۶ صفحه ۷۵ ) حضرت نبی کریم نے اس حدیث میں حضرت عثمان کو نصیحت فرمائی تھی کہ جب تیرے زمانہ خلافت میں ایک فتنہ بپا ہوگا اور بعض بیوقوف تجھ سے مطالبہ کریں گے کہ تو اپنے خلعت خلافت کو کسی اور کے حق میں اتار دے تو اس وقت یادرکھنا کہ خلیفہ کا انتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے اور جو خلعت خدا نے تجھے دیا ہے اسے لوگوں کے کہنے سے اتار نا ٹھیک نہیں۔اس حدیث نبوی میں بھی مذکورہ بالا قرآنی اصل کی تفسیر بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اسی اصول کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں فرماتے ہیں۔و آنحضرت علی نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا۔اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ کو خوب معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرما دے گا۔کیونکہ یہ خدا ہی کا کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں“۔(الحکم ۱۳ را پریل ۱۹۰۸ء) پس اگر یہ صحیح ہے کہ خلیفہ النبی کا انتخاب خود خدا فرماتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی ایک آیت، نحضرت ﷺ کی ایک حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک اقتباس سے ثابت کیا گیا ہے، تو پھر یہ بھی عیاں ہے کہ جو قمیص خدا پہنائے اُسے بندے نہیں اتار سکتے۔اگر ہم یہ تسلیم نہ کریں تو پھر یا تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے وقت انتخاب غلطی سے کسی نا اہل کو اپنے نبی کا خلیفہ بنادیا اور اب ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی غلطی کی تصحیح کریں ( وَالْعِيَاذُ بِاللهِ ) اور یا ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ گو وقت انتخاب منتخب خلیفہ اس عہدہ کا اہل تھا مگر ایک عرصہ گزرجانے کے بعداب وہ اس کا اہل نہیں رہا اس لئے اسے اس کے منصب خلافت سے اتار کر اب کوئی نیا انتخاب ہونا چاہیے۔