مضامین ناصر — Page 231
۲۳۱ انبیاء کے خلفاء کا انتخاب عمر بھر کے لئے ہوتا ہے از روئے لغت لفظ خلیفہ ایسے شخص پر بولا جاتا ہے جو دوسرے کا قائم مقام ہو کر اسی کے کام کو کرنے والا ہو۔اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے۔”خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ امام جو اس کے نبی کا قائم مقام ہو کر نبی ہی کے کام کو کرنے والا ہو۔جس کا فیصلہ دینی معاملات میں آخری فیصلہ سمجھا جائے۔جو شریعت کو قائم کرنے والا ، احکام شریعت کا اجراء کرنے والا ، مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرنے والا اور اس بات کی نگہداشت رکھنے والا ہو کہ مسلمان اسلامی صراط مستقیم سے نہ بھنکیں“۔قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب نظام خلافت پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہیں۔اس تفصیل میں جانا اس وقت میرا مقصود نہیں۔میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خلیفہ کا تقر رکسی محدود زمانہ کے لئے نہیں ہوتا۔یہ تقر ر زندگی بھر کے لئے ہوتا ہے۔مندرجہ ذیل دلائل سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے۔منصب خلافت کے لئے موزوں ترین ہستی کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔یہ امر آیت استخلاف کے جملہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (سورہ نور : ۵۶ ) سے عیاں ہے کیونکہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور وہ خود اس بات کا ذمہ وار ہے کہ جب تک مومنوں کی جماعت بحیثیت مجموعی اپنے ایمان پر قائم رہے گی اور اسی کے مطابق