مضامین ناصر — Page 217
۲۱۷ وجود میں پا کی داخل نہیں ہو جاتی، جب تک تم صحیح معنوں میں پاک اور مطہر نہیں ہو جاتے اس وقت تک کے لئے ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ تم خانہ بدوشوں کی طرح مارے مارے پھرتے رہو کیونکہ مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمُ أَرْبَعِينَ سَنَةً کے تحت ہم نے چالیس سال کے لئے اس زمین میں تمہارا داخلہ بند کر دیا ہے اور يَتِيَهُونَ فِي الْأَرْضِ کے مطابق تم زمین میں سرگرداں ہو کر ادھر اُدھر پھرتے رہو گے۔اُن کی نافرمانی کی انہیں یہ سزا ملی۔چالیس سال کا زمانہ ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس نافرمان قوم سے کہا کہ تمہاری نسل سے یہ انعام واپس لیا جاتا ہے۔اب ایک اور قوم پیدا ہوگی وہ ہوگی تمہیں میں سے لیکن ہو گی ایک نئی قوم۔اسے اس انعام کا وارث بنایا جائے گا۔وہ بچے جو آج کے بعد پیدا ہوں گے اور دس یا پندرہ سال بعد اس حال میں تم سے تربیت حاصل کریں گے کہ مسلسل دس پندرہ سال تک سرگرداں رہنے اور مارے مارے پھرنے کے بعد تمہارے اندر ندامت کا احساس پیدا ہو چکا ہو گا اور تم یہ سمجھ چکے ہوگے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے اور اپنے آپ کو ایک بڑی اور عظیم الشان نعمت سے محروم کر لیا ہے تو وہ تربیت یافتہ بچے بڑے ہو کر اس بات کے اہل بن جائیں گے کہ ہم انہیں اپنے انعام سے نوازیں۔دس پندرہ سال بعد تمہارے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ اگر چہ ہم اس نعمت سے محروم ہو گئے ہیں ہمارے بچوں کو تو اس نعمت سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔اس احساس کے ساتھ تم جس قوم کی تربیت کرو گے وہ وہ قوم ہوگی جو ارض مقدس میں داخل ہونے کے لئے اپنے خون بہائے گی اور اپنے خون سے سیراب کر کے اسے مقدس بنائے گی۔وہ وہ قوم ہوگی جس کے دل کی گہرائیوں سے ذکر الہی بلند ہوگا جو خدا کی حمد کرنے والے، اس کی بزرگی اور کبریائی بیان کرنے والے، اس کی عظمت کو ظاہر کرنے والے اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کرنے والے ہوں گے۔وہی وہ قوم ہوگی جو اس انعام کو حاصل کرے گی۔جہاں تک تمہارا تعلق ہے تم اپنی ذہنیت، اپنے کردار اور اپنے انکار کی وجہ سے محروم کر دئیے گئے ہو۔سو قربانی و ایثار سے پہلو تہی اور نافرمانی کی یہ وہ بدترین مثال ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ کی ان آیات میں کیا ہے۔