مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 200 of 239

مضامین ناصر — Page 200

آیا ، دعائے ابراہیمی کی وجہ سے ہی انہیں رزق ملا، اور دعائے ابراہیمی کی وجہ سے ہی انہیں عزت اور شہرت نصیب ہوئی، تو انہیں سوچنا چاہیے کہ ابراہیم نے بیت اللہ کی تعمیر کیا اس لئے کی تھی کہ انسان اپنی جبینِ نیاز ربّ العالمین کی بجائے پتھر کے بے جان بتوں کے آگے جھکا دے۔کعبہ کی بناء تو خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے رکھی گئی تھی۔پھر کیوں ان کی خطا کار پیشانی ہمیشہ باطل کے سامنے جھکتی ہے اور کیوں وہ احسان ناشناسی کا بدترین نمونہ پیش کرتے ہیں۔فرمایا کہ منکرین اسلام میں دو بڑے عیب ہیں ، ایک تو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اور دوسرے الہی صداقتوں کو جھٹلاتے ہیں اس لئے ان کے لئے تباہی اور نا کامی مقدر ہو چکی ہے۔فرمایا حسن انجام تو ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اس کی خاطر ہر قسم کے ابتلاؤں کو برداشت کرتے ہیں۔ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہیں آتی۔قربانیوں کی راہ میں ان کا قدم بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور ان کی یہ جدو جہد ہمارے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہوتی ہے۔ہمارا بھی ان سے حسن سلوک ہوتا ہے، علم وعرفان اور قرب الہی کے راستے ان پر کھولے جاتے ہیں، کامیابی اور عروج کی غیر متناہی راہیں ان پر وا کی جاتی ہیں اور ان کا ہر قدم انہیں زیادہ سے زیادہ خدائی برکات اور انوار کا مورد بنادیتا ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم بھی اس کے محسن بندے بنیں اور ا بتلاؤں کے طوفانوں میں ایمان کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنی جانی اور مالی قربانیوں کے ذریعہ اخلاص اور فدائیت کے نمونہ پیش کریں تو اللہ تعالیٰ یقیناً ہماری مدد کے لئے آسمان سے اترے گا اور وہ ہمیں ایک پیارے بچے کی طرح اپنی گود میں اٹھالے گا۔اے خدا! ہم تجھ سے ہی اس کی تو فیق چاہتے ہیں۔عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا۔(مرزا ناصر احمد ) (ماہنامہ انصار اللہ ربوہ فروری ۱۹۶۴ء صفحه ۲۲ تا ۲۴)