مضامین ناصر — Page 199
۱۹۹ سے ( یعنی مکہ کے باہر سے) لوگ اُچک لئے جاتے ہیں تو کیا وہ جھوٹ پر تو ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ ) پر جھوٹ باندھ کر افتراء کرتا ہے اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے یا (اس سے) جو سچی بات کو اس وقت جھٹلاتا ہے جب وہ اُس کے پاس آجاتی ہے۔کیا ایسے کافروں کی جگہ جہنم میں نہیں ہونی چاہیے۔اور وہ (لوگ) جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے اور اللہ تعالیٰ) یقینا محسنوں کے ساتھ ہے۔تفسیر فرمایا۔انسان یا تو آرام اور سکون حاصل کر رہا ہوتا ہے یا مختلف طریق پر اپنی قوتوں کو بروئے کا رلا رہا ہوتا ہے۔فرمایا کہ اگر تم اس حقیقت کو سمجھتے کہ دنیا دار آخرت کی تیاری کے لئے رکھی گئی ہے اور اس کی حیثیت لہو ولعب کی سی ہے تو تم دنیا پر لات مار کر محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی اختیار کر لیتے اور سمجھتے کہ مادی ترقیات، روحانی ترقیات کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔مگر تم نے تو دار آخرت پر دنیوی زندگی کو ترجیح دے دی اور چند کھوٹے پیسوں کے لئے آسمانی دولت کو رد کر دیا۔فرمایا کہ دیکھو جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے تو وہ اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے اپنے بچاؤ کی دعا کرتے ہیں۔کوئی دیوتا انہیں یاد نہیں آتا۔لیکن جب کشتی بھنور سے نکل جاتی ہے تو پھر شرک کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور ہمارے انعامات کا انکار کر دیتے ہیں اور اس کامیابی کو اپنی تدبیر یا کسی دیوتا کی طرف منسوب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔فرمایا بیشک ہم انہیں ایک عرصہ تک تو بہ کا موقعہ دیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ دنیوی سامانوں سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں لیکن ایک دن وہ ان مواقع سے بھی محروم ہو جائیں گے اور پھر دیکھ لیں گے کہ ان کا کوئی جھوٹا معبودان کی مدد نہیں کر سکے گا اور وہ عذاب کی طوفانی موجوں سے رہائی کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔فرمایا کہ خود خانہ کعبہ کا وجود تو حید باری کا کافی ثبوت ہے۔دیکھو دعائے ابراہیمی کی وجہ سے ہی انہیں امن میسر