مضامین ناصر — Page 171
طرف ہو جاتے ہیں تا کہ مومنوں کی مشکلات میں اور اضافہ ہو۔اس کی واضح مثال ہمیں آنحضرت ﷺ کے وصال کے وقت ملتی ہے۔جب خدائی مقدرات کے تحت آنحضرت ﷺ کا وصال ہوا تو مومنوں پر تو مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ایسے نازک وقت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں سنبھالا اور انہیں ان کا فرض یا د دلا کر پہلے سے بھی بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی چنانچہ وہ شدید صدمہ اور غم واندوہ کے باوجود اپنی ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔لیکن برخلاف اس کے منافقوں نے آپ کی وفات پر خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے کہ چلو اب زکوۃ کی ادائیگی سے بچے۔بجائے اس کے کہ یہ کہتے کہ اتنا بڑا حسن جو خدا نے ہم کو دیا تھا وہ فوت ہو گیا ہے اب ہم اس کی خاطر اور زیادہ قربانیاں کریں گے اور اس کے کام کو آگے بڑھانے میں اپنی جانیں لڑا دیں گے، انہوں نے کہا یہ کہ چلو چھٹی ہوئی ، قومی ضرورتوں کے لئے مال خرچ کرنا پڑتا تھا، اب اس سے تو نجات ملی۔منافقین کا یہ گروہ آنحضرت مع کے زمانہ میں بھی تھا اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں بھی تھا۔اسی طرح یہ گروہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مصروف کار رہا اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں اس گروہ کی ریشہ دوانیاں جاری رہیں۔سو جب صدمہ اور مصیبت کے وقت میں خدا ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم نہ صرف زبان سے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت دیں ہمارا فرض ہے کہ صدمہ اور غم واندوہ کے موجودہ وقت میں جبکہ ہماری ایک نہایت محبوب اور واجب الاحترام ہستی ہم سے جدا ہو گئی ہے ہم نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے عمل سے اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے خوب دعائیں کریں کہ وہ ہماری حفاظت فرمائے اور پہلے سے بھی بڑھ کر قربانیوں اور دین کی خاطر جانفشانیوں کی توفیق سے نوازے اور پھر اپنی ذمہ داریوں کو جن میں پہلے کی نسبت اور زیادہ اضافہ ہو گیا ہے کما حقہ ادا کرنے میں ہمہ تن مصروف ہوجائیں۔نیز ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم قرآن مجید کے اس واضح ارشاد کے پیش نظر کہ مومنوں پر مصیبت کے وقت منافق اور بھی