مضامین ناصر — Page 153
۱۵۳ میں سن بلوغ کو پہنچے ہوئے انسانی ذہن کے سامنے ایسا لائحہ عمل رکھوں کہ جو اسے دینی اور دنیوی لحاظ سے ترقی کی معراج تک پہنچانے کا ضامن ہو اور انہیں ان کے مقصد حیات میں کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہو۔آپ نے فرمایا اسی لئے مجھے وہ شریعت دی گئی ہے جو ہر لحاظ سے کامل ہے اور جس میں کسی ترمیم یا تنسیخ کی گنجائش نہیں اور اسی لئے یہ قیامت تک جاری رہے گی۔خدا تعالیٰ کا یہ بے مثل کلام جو مجھ پر نازل ہوا ہے اور جو قرآن مجید کی شکل میں ہمیشہ ہمیش کے لئے محفوظ کر دیا گیا ہے۔حقائق و دقائق اور علوم و معارف سے پُر ہے۔اس سے نہ صرف روحانی بیماریاں دور ہو کر روحانی لحاظ سے انسان کو صحت و تندرستی اور قوت و توانائی ملتی ہے بلکہ دنیوی مشکلات اور معاشرہ کی الجھنوں کا علاج بھی اسی میں مضمر ہے۔آئندہ روحانی بیماریوں اور معاشرہ کی الجھنوں کو دور کرنے کے سلسلہ میں ذہنی وفکری اور علمی و عملی لحاظ سے جو اشکال بھی پیش آئیں گے انہیں قرآن حل کرتا چلا جائے گا۔آپ کے دعوئی سالت اور اس آخری اور کامل شریعت پر جو لوگ ایمان لائے انہوں نے آپ کے دعویٰ کی ہمہ گیر نوعیت اور زمانی و مکانی اعتبار سے اس کی بے انداز وسعت کے عین مطابق اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ ہمارا محض ایمان لے آنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہمارا فرض ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ نے بنی نوع انسان کی روحانی و مادی فلاح کے لئے اپنی جان گداز کر دکھائی ہے اسی طرح ہم بھی اس راہ میں اپنی زندگیاں وقف کر دکھا ئیں اور اللہ کے راستے میں اپنے اموال اپنی عزتیں اور اپنی جانیں قربان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔اگر آنحضرت ﷺ کے صحابہ ذاتی فلاح کو ہی کافی سمجھتے تو وہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہتے اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھال کر آئندہ زندگی کے متعلق مطمئن ہو جاتے۔لیکن انہوں نے اسے کافی نہیں سمجھا۔وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلى الله ہ صرف ہماری اصلاح اور ہماری فلاح کے لئے ہی تشریف نہیں لائے ہیں۔آپ کی بعثت کا مقصد اس سے کہیں ارفع و اعلیٰ ہے۔آپ تمام جہان اور تمام زمانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم صرف اپنی فلاح پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ تمام بنی نوع انسان کی فلاح کو اپنا طمح نظر بنا ئیں۔یہی وجہ ہے وہ آنحضرت ﷺ کے مشن کو کامیاب بنانے کی خاطر اپنا سب کچھ