مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 239

مضامین ناصر — Page 139

۱۳۹ دوستوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ مامورین کی بعثت کی اصل غرض تزکیہ نفس ہوتی ہے یعنی دلوں کی صفائی۔تا ان میں خدا بس جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی مقصد کے لئے تشریف لائے تھے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا۔میں نہیں چاہتا کہ چند الفا ظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رٹ لئے جائیں۔اس سے کچھ فائدہ نہیں۔تزکیہ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔ہماری یہ غرض ہر گز نہیں کہ میچ کی وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثے کرتے پھرو۔یہ ایک ادنی سی بات ہے۔ہمارا کام اور ہماری غرض ابھی اِس سے بہت دور ہے۔اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ۔اس لئے ہر ایک کو تم میں سے ضروری ہے کہ وہ اس راز کو سمجھے اور ایسی تبدیلی کرے کہ وہ کہہ سکے کہ میں اور ہوں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحه ۷۲-۷۳ ) خدام الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ اور انصار اللہ کے قیام کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ تا ہر مجلس مخصوص طور پر اپنے اراکین میں یہی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔انصار اللہ کی طرح خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی اپنی جگہ اس مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہیں۔مگر جماعت احمد یہ میں انصار اللہ کو جو مقام حاصل ہے اس کی وجہ سے انصار پر ان سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ سب کی نظریں ان پر ہیں۔انصار کا طریق عمل خدام واطفال کے لئے نمونہ کا کام دیتا ہے۔اس لئے میں اپنے انصار بھائیوں سے عرض کروں گا کہ وہ ہمیشہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں اور نماز باجماعت ادا کرنے ، قرآن مجید کے معارف سیکھنے، تقویٰ، راستبازی اور دیگر اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے اور سلسلہ کی مالی تحریکات اور دوسرے نیک کاموں میں حصہ لینے کی ایک دوسرے سے بڑھ کر کوشش کریں اور اس طرح اپنے اندر ایسی نیک تبدیلی کر لیں کہ خدام و اطفال تو الگ رہے دنیا کی دوسری قومیں بھی ان سے نیک اثر قبول کریں۔مگر اس کے لئے بہت زیادہ توجہ ، بہت زیادہ احتیاط، اور بہت زیادہ