مضامین ناصر — Page 130
ان آیات میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے نہایت زور دار پیرائے اور نہایت درجہ پر اثر انداز بیان میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہمیں ہرگز کسی انسان کی غیبت کرنے یا عیب چینی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ تخصیص نہیں فرمائی کہ کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کی غیبت یا عیب چینی نہیں کرنی چاہیے بلکہ جو اسلام کے پیرو ہیں ہدایت یہ کی گئی ہے کہ کسی انسان کی بھی خواہ وہ مسلمان ہو، ہندو ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو، زرتشتی ہو چتی کہ خدا کا منکر اور دہر یہ ہو، الغرض کوئی ہو کسی فرد بشر کی بھی غیبت نہیں کرنی اور اس کے بارہ میں کسی قسم کی بھی عیب چینی کا مرتکب نہیں ہونا۔اس بارہ میں تم دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اپنے اعمال کی درستی کی طرف متوجہ رہو اور نیک اعمال بجالا کر آخرت کے لئے زاد راہ فراہم کرنے کی فکر میں لگے رہو۔اگر کسی کے اندر کوئی نقص دیکھو تو قرآن اور حدیث میں بیان کردہ طریق کے مطابق احسن طریق پر اس نقص کو دور کرنے کی کوشش کرو۔کسی دوسرے کے نقص کو دیکھ کر تمہارے اندر فخر کے جذبات کس طرح پیدا ہو سکتے ہیں؟ یہ تو ہے ہی نامعقول بات۔کسی کا نیچا ہونا تمہاری بلندی کا معیار کیسے بن سکتا ہے؟ تمہاری اپنی بلندی کا معیار تو تمہارے اپنے کردار کی بلندی ہے، تمہارے تقویٰ کی بلندی ہے، تمہارے اندر خشیت کے جذبے کی بلندی ہے، اسلام کے تمام احکام پر عمل پیرا ہو کر احسن تقویم پر فائز ہونے کی بلندی ہے۔تمہیں تو کہنا یہ چاہیے کہ کسی دوسرے کا عیب میرے حسن کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔میراحسن اگر نمایاں ہوگا تو خودا پنی باطنی خوبی کی وجہ سے نمایاں ہوگا۔کیسی پیاری تعلیم ہے اور کیسی پر حکمت ہیں اس کی تفصیلات ! لیکن اب دنیا اسلام سے اس قدر دور جا پڑی ہے کہ لوگوں کی اس طرف توجہ نہیں۔بعض اوقات لوگ اس قسم کی باتوں میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے حالانکہ اسلام کی واضح تعلیم کی رو سے ایسی باتیں کرنا معصیت میں داخل ہے۔یہ دیکھ کر میرے دل میں درد پیدا ہوا کہ میں اپنے دوستوں، بھائیوں اور بزرگوں کی خدمت میں عرض کروں کہ ہم کو اسلام نے ان چیزوں سے بڑی تختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کبھی کسی کی غیبت نہ کریں ، عیب چینی کے مرتکب نہ ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ