مضامین ناصر — Page 125
۱۲۵ چیزوں کو غلط نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتا تو اس کے نتیجے میں کبر ونخوت اور پھر غیبت اور عیب چینی کی بری عادتیں سراٹھا کر اس کی تباہی کا موجب بن جاتی ہیں۔الغرض اس سورۃ کے آغاز میں ہی ویل کا ایک لفظ ایسا ہے جو ان تمام وجوہات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جن کے نتیجے میں کبر و غرور پیدا ہوتا ہے اور پھر غیبت اور عیب چینی کا رستہ کھلتا ہے۔پھر ساتھ ہی اس لفظ میں ان چیزوں کے بُرے انجام کی وعید بھی موجود ہے۔یہ وجوہات بتاتی ہیں کہ کبر وغرور اور غیبت وعیب چینی کے زہر کا تریاق منکسر المزاجی اور تواضع ہے۔منکسر المزاجی یا تواضع کے معنی ہیں کہ فطرت کے اندر یہ خیال پیدا ہونا کہ مجھے جو مقام بھی حاصل ہے خواہ وہ دینی ہو یاد نیوی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے اس میں میری کوئی خوبی نہیں جب تک انسان میں یہ حالت قائم رہتی ہے اس کے لئے دین میں بھی اور دنیا میں بھی فلاح کے راستے کھلے رہتے ہیں۔برخلاف اس کے جب اس انکسار اور تواضع کے مقابلہ میں کبر و غرور پیدا ہو جاتا ہے تو غیبت اور عیب چینی کی عادتیں پاؤں جمائے بغیر نہیں رہتیں۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے اور دنیا کی تاریخ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ وہ بیچ کہتا ہے اور کون ہے جو اس سے بڑھ کر سچ کہے ) کہ وہ مقام، وہ رتبہ، وہ مال، وہ عزت ، وہ وجاہت، وہ علم ، وہ خاندانی شرف یا اور کوئی بڑائی جو کبر وغرور اور عیب چینی کا دروازہ کھولتی ہے وہ قائم نہیں رہے گی ، وہ یقیناً مٹا دی جائے گی۔بس وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر غیبت کرنے والے اور ہر عیب چینی کرنے والے کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر اس چیز کے متعلق جس کے نتیجے میں بالآخر غیبت اور عیب چینی پیدا ہوتی ہے ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ اسے مٹا دیا جائے گا وہ باقی نہیں رہے گی۔اگر انسان متقی ہو کر اپنے تقویٰ پر گھمنڈ کرتے ہوئے غیبت اور عیب چینی کی طرف راغب ہوگا تو تقویٰ کی راہیں اس پر مسدود کر دی جائیں گی اور اسے ہمارے دروازے سے دھتکار دیا جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی انسان اپنے علم یا معرفت کی وجہ سے غیبت اور عیب چینی کا مرتکب ہوتا ہے اور اس طرح دوسروں کے علم اور معرفت پر انگشت نمائی کرتا ہے تو وہ علم اور وہ معرفت اس کے پاس نہیں رہے گی اور وہ ان سے