مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 7 of 239

مضامین ناصر — Page 7

جائز و نا جائز طریق سے یہ لوگوں کو اپنے اندر داخل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔جب انہوں نے دیکھا کہ جماعت احمد یہ ایک ایسی جماعت ہے کہ باوجود اس کے تعداد میں تھوڑی اور مال میں کم ہونے کے وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس کے قوی دلائل کے مقابل ان کے بودے دلائل ٹھہر نہیں سکتے اور یہ جماعت ان کے ناجائز وسائل کو دنیا کے سامنے ظاہر کر دیتی ہے جس سے ان کی اشاعت باطلہ میں روک پڑتی ہے تو انہوں نے اندر ہی اندر بہت پیچ و بل کھائے اور جب کوئی اور صورت نظر نہ آئی تو ایک طرف دیگر فرقہ ہائے مسلماناں کو ان کے خلاف برانگیختہ کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف اپنی گندی فطرت کے مطابق ان کے امام یا خود جماعت کے متعلق اپنے اخباروں میں گندے مضامین شائع کرنے لگے۔مجھے اس وقت ان عبارات کے نقل کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔کیونکہ ہر وہ شخص جو ان کے اخباروں کو پڑھتا ہے وہ ان عبارات سے خوب واقف ہے اور ان کی گندی فطرت کو اچھی طرح جانتا ہے۔پھر اُن میں سے بعض ہوشیار آدمیوں نے اپنے زعم کے مطابق اس جماعت کو کمزور کرنے کے لئے ایک یہ چال چلی کہ ایسے مضامین شائع کرنے شروع کئے جن میں جماعت احمدیہ کی بہت زیادہ تعریف کی گئی تھی اور باوجود دشمن ہونے کے ایسے الفاظ استعمال کئے گئے تھے جیسے ایک قوم اپنی دوسری دوست قوم کے حق میں کہتی ہے۔ان مضامین سے ان کے دو مطلب تھے جن میں سے ایک کو تو خود مضمون نگاروں نے اپنے مضامین میں بھی ظاہر کیا اور وہ اپنی قوم کو برانگیختہ کرنا اور مقابلہ کے لے تیار کرنا تھا اور ان کو یہ محسوس کروانا تھا کہ تمہارے مقابل پر ایک ایسی قوم بھی ہے جو تم سے زیادہ مالدار ہے (جو بالکل غلط ہے ) اور تم سے زیادہ قربانی کرنے والی ہے اور اگر اس وقت تم اپنی پوری طاقت اور پوری توجہ سے ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو تم ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر اس وقت تم نے ان کے مقابلہ میں سستی کی تو ان کی فتح اور تمہاری شکست ہوگی اور پھر تم کبھی بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکو گے اور دوسرا فائدہ جو وہ ایسے مضامین سے حاصل کرنا چاہتے تھے اور جسے ایک سرسری نظر سے محسوس نہیں کیا جا سکتا۔وہ یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کو ست کر دیا جائے اور اپنے فرض سے غافل کر