مضامین ناصر — Page 107
۱۰۷ 66 یوم والدین کی تقریبات صبح ۷ بجے سے دس بجے تک جاری رہیں۔جن میں طلبہ کے والدین اور سر پرست حضرات نے شریک ہو کر اپنے نونہال بچوں کے درمیان باہم ورزش، تلاوت قرآن مجید اور تقاریر کے مقابلے اور ورزش جسمانی کا مظاہرہ دیکھا۔آخر میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کے متعلق ہیڈ ماسٹر صاحب کی مختصر سی رپورٹ اور تقسیم انعامات کے بعد صاحب صدر محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے طلبہ اور ان کے والدین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں نہایت احسن پیرائے میں ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے اپنی تقریر کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ “ سے کیا۔آپ نے فرمایا۔محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے وطن کے لئے بہترین چیز پیش کرے اور وہ یہی ہے کہ آپ لوگ جو اس درس گاہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ملک کے لئے قربانیاں کریں اور والدین کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ آپ سے ملک کی خاطر قربانیاں کرائیں۔لیکن بغیر تیاری کے قربانی پیش کرنے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔وہ تیاری یہی ہے کہ تعلیم و تربیت کے زمانے میں اساتذہ اور والدین کی طرف سے آپ کی آزاد روی پر جو پابندیاں لگائی جائیں آپ ان کا خیر مقدم کریں۔ان پابندیوں کا مقصد آپ کے فطری قومی اور صلاحیتوں کو ترقی دینا ہوتا ہے کیونکہ فطری صلاحیتوں کو ترقی دیئے بغیر آپ قوم و ملک کے لئے نافع وجود نہیں بن سکتے۔اگر آپ فطری قومی کو ترقی نہ دیں تو پھر ملک بھی ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ملک نام ہے افراد کے مجموعہ کا۔جب افراد کی ہی تربیت ٹھیک نہ ہو اور وہ اس قابل نہ ہوں کہ قوم کی صحیح رنگ میں خدمت کرسکیں تو پھر ملک کی ترقی میں رکاوٹ پڑنی لازمی ہے۔پس آپ ابھی سے اپنے دل میں یہ بٹھا لیں کہ آپ نے یہ کوشش کرنی ہے کہ آپ کی جدوجہد کے نتیجے میں آپ کا ملک دنیا کے چوٹی کے ملکوں میں شمار ہونے لگے۔ترقی کے لحاظ سے دنیا کی قو میں ہم سے بہت آگے ہیں۔اب آپ کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارا ملک ان سب سے آگے نکل جائے۔محترم صاحبزادہ صاحب نے فرمایا۔یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے کہ آپ نہ کر سکیں۔دینی علوم میں دسترس کی وجہ سے آپ کو ایک سہولت حاصل ہے۔جس سے دوسری قو میں محروم ہیں۔دین کی