مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 239

مضامین ناصر — Page 99

۹۹ گے بلکہ وہ ہر وقت بدلتے رہیں گے۔آج بھی مختلف سائنسدانوں نے مختلف نظریات دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگر آج ایک سائنسدان نے ایک نظریہ پیش کیا ہے تو دس بیس سال کے بعد دوسرا سائنسدان اس سے مختلف بلکہ بعض اوقات اس کے بالکل متضاد نظریہ پیش کر دے گا۔یہ سب چیزیں شاعرانہ نظریات ہیں، حقائق پر مشتمل نہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کردہ یو نیورسٹی میں جو علوم پڑھائے جائیں گے ان میں شعراء کو کوئی دخل نہیں ہوگا۔پھر یہ علوم حقائق الاشیاء پر مشتمل ہوں گے جیسا کہ آپ کے ایک الہام " رَبِّ اَرِنِی حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ“ میں بتایا گیا ہے۔یعنی اے اللہ ! تو مجھے ہر چیز کی گنہ اور حقیقت دکھا دے۔میں یہاں پر ایک لطیف نکتہ بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام فرمایا کہ رَبِّ اَرِنِى حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ “ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کسی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل نہیں تھے۔نہ آپ کوئی عظیم فلاسفر تھے۔آپ ایک معمولی سے گاؤں کے رہنے والے تھے جو ریل اور پختہ سڑک سے بہت دور واقع تھا اور ذاتی طور پر بھی آپ کو اپنے محدود حلقہ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔بایں ہمہ آپ نے اپنی کتابوں میں بعض ایسے نکات بیان کئے ہیں کہ آج سالہا سال کی تحقیقات کے بعد بڑے بڑے سکالر ان کے خلاف کوئی اور نظریہ قائم نہیں کر سکے۔مثلاً ۱۸۹۶ء میں آپ ضمنی طور پر اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں۔غرض جسمانی صدمات بھی عجیب نظارہ دکھاتے ہیں۔جن سے ثابت ہوتا ہے کہ روح اور جسم کا ایک ایسا تعلق ہے کہ اس راز کو کھولنا انسان کا کا م نہیں“۔دوسری بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ۔اس سے زیادہ اس تعلق کے ثبوت پر یہ دلیل ہے کہ غور سے معلوم ہوتا ہے کہ روح کی ماں جسم ہی ہے۔حاملہ عورتوں کے پیٹ میں روح کبھی اوپر سے نہیں گرتی۔بلکہ وہ ایک نور ہے جو نطفہ میں ہی پوشیدہ طور پر مخفی ہوتا ہے اور جسم کی نشو و نما کے ساتھ چمکتا جاتا ہے۔