مضامین ناصر — Page 95
۹۵ روپیہ خرچ کیا جا چکا ہے۔گویا مجموعی طور پر پاکستان میں قائم شدہ جماعت کے تعلیمی اداروں پر گزشتہ سال کے قلیل عرصہ میں 9 لاکھ روپیہ سے زائد رقم خرچ کی جاچکی ہے۔بیرونی ممالک میں قائم شدہ تعلیمی اداروں پر جماعت سات لاکھ روپیہ سالانہ سے زیادہ خرچ کر رہی ہے۔ان سب اخراجات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کی میزان ۷ لاکھ روپیہ سے زیادہ بن جاتی ہے اور یہ کوئی معمولی رقم نہیں خصوصاً اس جماعت کیلئے جس کو ۴۷ء میں اپنا مرکز چھوڑنا پڑا۔دنیا داروں کی نگاہ میں اس کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا تھا اور مرکزی چندوں کی آمد لاکھوں روپیہ سالانہ سے گر کر چندسور و پیہ سالانہ پر آرہی تھی۔مقامی لوگ جنہیں ہجرت کی تکالیف برداشت نہیں کرنی پڑیں انہیں ان مصائب اور تکالیف کا اندازہ نہیں ہوسکتا جو اس جماعت کو پیش آئیں۔ہاں وہ لاکھوں لوگ جنہیں مشرقی پنجاب چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا خوب جانتے ہیں کہ یہ سات سال کا عرصہ مہاجروں نے کس طرح گزارا ہے۔لیکن کہاں یہ دنیا داروں کی نظر میں پٹی ہوئی اور تباہ شدہ جماعت اور کہاں خدا تعالیٰ کا یہ فضل کہ اس جماعت نے خدا تعالیٰ کی ہی دی ہوئی توفیق سے صرف تعلیمی اداروں پر ۷۰ لاکھ روپیہ کے قریب رقم صرف گزشتہ سال کے عرصہ میں خرچ کی۔تعمیر کا خرچ اوپر دئیے ہوئے اندازہ کے علاوہ ہے۔صرف تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی عمارت پر اس وقت تک پانچ لاکھ روپیہ کے قریب رقم خرچ کی جاچکی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو عمارت تیار کی گئی ہے سرکاری عمارات سے ان کا مقابلہ کیا جائے تو وہ گورنمنٹ کے شیڈول کے مطابق چودہ پندرہ لاکھ روپیہ سے کم مالیت کی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کے روپیہ میں اس قدر برکت دی ہے کہ گورنمنٹ جس عمارت پر چودہ پندرہ لاکھ روپیہ خرچ کرتی ہے اس قسم کی عمارت ہم چار پانچ لاکھ روپیہ کی لاگت میں تیار کر لیتے ہیں۔قادیان سے پاکستان میں ہجرت کر کے آنے کے بعد ہمارا کالج عارضی طور پر ڈی۔اے۔وی کالج لاہور کی عمارت میں کھلا۔وہاں ایک دفعہ یہ شور اٹھا کہ ہمیں یہ عمارت چھوڑ دینی چاہیے۔میں ان دنوں وزیر تعلیم مغربی پنجاب کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ گورنمنٹ نے سرگودھا اور منٹگمری میں دو کالج