مضامین ناصر — Page 96
۹۶ بنائے ہیں اور ان پر ۳۵ لاکھ روپیہ کے قریب رقم خرچ کی ہے آپ ہمیں اس رقم کا ۲۵ فیصدی دے دیں تو نہ صرف ہمارا کالج بن جائے گا بلکہ گورنمنٹ کو پتہ لگ جائے گا کہ اس کا روپیہ کہاں جاتا ہے۔تو وہ کہنے لگے آپ کو کالج بنانے کے لئے روپیہ نہیں دیا جا سکتا۔پس ہر دیکھنے والے کے لئے یہ یقینا معجزہ سے کم نہیں کہ گزشتہ سات سال کے عرصہ میں جماعت احمدیہ نے نہ صرف تعلیمی اداروں کو جاری رکھنے پره ۷ لاکھ روپیہ سے زائد رقم خرچ کی بلکہ ان اداروں کی تعمیر پر جو اخراجات آئے وہ بھی برداشت کئے اور خدا تعالیٰ کا جو فضل اس جماعت کے شامل حال رہا وہ بھی کسی معجزہ سے کم نہیں کہ اس نے کم سے کم لاگت میں بڑی لاگت کی عمارات تیار کر لیں۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيُهِ مَنْ يَّشَآءُ۔اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ ایک غریب جماعت اس قدر توجہ اور اس قدر رو پیدان تعلیمی اداروں پر کیوں خرچ کر رہی ہے۔اس ”کیوں“ کا جواب ہراحمدی کو ملنا چاہیے ایک جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب فتح اسلام کے مندرجہ ذیل اقتباس میں دیا گیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔”اے حق کے طالبو اور اسلام کے پے مجبو! آپ لوگوں پر واضح رہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا ایمان اور کیا عمل جس قدرا مور ہیں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی ہر طرف سے چل رہی ہے۔وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اس کی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جن کا محض زبان سے اقرار کیا جاتا ہے اور وہ امور جن کا نام اعمال صالحہ ہے ان کا مصداق چند رسوم یا اسراف اور ریا کاری کے کام سمجھے گئے ہیں اور جو حقیقی نیکی ہے اس سے بکلی بے خبری ہے۔اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی روحانی صلاحیت کا سخت مخالف پڑا ہے۔اس کے جذبات اس کے جاننے والوں پر نہایت بداثر کرنے والے اور ظلمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے ہیں۔وہ زہریلے مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں۔ان علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور میں اکثر ایسی بد عقیدگی