مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 87 of 239

مضامین ناصر — Page 87

AL میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر طاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ھواء نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ھواء نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بنا سکتی ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلعم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاسکتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے اور اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔مسلمانوں کو ضعف اور تنزل کے منجملہ دیگر اسباب کے باہم اختلاف اور اندرونی تنازعات بھی ہیں۔پس اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔اس میں یہی تو سر ہے۔اللہ تعالیٰ تو حید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہوسکتی جب تک اطاعت نہ کی جائے۔“ اطاعت کا یہی وہ مقام ہے جس پر مجلس خدام الاحمدیہ ، خدام کو کھڑا دیکھنا چاہتی ہے۔اس کے بغیر جماعت وہ روحانی اور دنیوی ترقیات حاصل نہیں کر سکتی جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے۔روزنامه الفضل لاہور مورخہ ۲۸ رمئی ۱۹۴۸ ء صفحه ۵)