مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 239

مضامین ناصر — Page 2

پورے اسباب کو مہیا کرتے ہوئے اسلام سے آخری جنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اس وقت خدائے رحیم و کریم کے رحم نے جوش مارا اور اس نے اپنے بندوں پر نظر لطف فرماتے ہوئے ایک عظیم الشان رسول کو مبعوث فرمایا جوآ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مظہر اتم اور جمیع انبیاء گذشتہ کے جملہ کمالات اور خوبیوں کو اپنے اندر جمع رکھتا تھا۔وہ نبی دنیا میں آیا اور ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کرنے کے لئے آیا۔وہ دلوں میں نور بھرنے اور توحید کو قائم کرنے کے لئے اپنے ساتھ سچائی کا ایک سورج لا یا اور اپنے گردو پیش کے لوگوں پر اپنا روحانی اثر ڈالنا شروع کیا۔اس نے اسلام کے چشمہ کو جو خشک ہوتا نظر آتا تھا پھر نئے سرے سے جاری کیا۔اس نے نہ صرف چمن اسلام کے مرجھائے ہوئے پودوں کو دوبارہ سرسبز کر دیا بلکہ نئے بیج بوئے۔اس نے شیطان سے آخری جنگ کرنے کے لئے لوگوں کو تیار کرنا شروع کیا اور جب چند ایک نفوس اس کے نور سے منور ہو گئے۔جب چمن اسلام میں نوزاد پودے لہلہانے لگے۔جب ایک چھوٹی سی جماعت شیطان سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئی تو جیسا کہ نبیوں کی سنت ہے اس کا کام بھی ختم ہو چکا اور وہ اس دار فانی سے جدا ہو کر اپنے محبوب حقیقی کی گود میں چلا گیا۔ہاں بے شک وہ اس دار فانی سے جدا ہو مگر کیا اس نے اپنے کام کو ادھورا چھوڑ دیا؟ کیا قبل اس کے کہ فتح مندی کا سہرا اس کے سر پر لہرا تا۔وہ اس جہان سے گذر گیا ؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔اس نے اپنے چشمہ کا ساقی اور چمن کا مالی اپنے حلقہ بگوشوں کو مقرر کیا اور یوں شیطان سے جنگ کرنے کا بوجھ ہمارے کندھوں پر رکھ گیا اور اس طرح ہمارا اہم فرض تبلیغ ہوئی۔اور گو کہ اس کا جسم ہم سے جدا ہے مگر اس کی روح ہم میں کام کر رہی ہے اور ہمارا کام اس کا کام ہے اور آخر فتح کا سہرا اُسی کے سر پر ہے۔اب جبکہ ہمارا اہم فرض تبلیغ ہے تو میں اس کے متعلق چند ایک ضروری باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔اول۔یہ کہ صرف دلائل سے کوئی نہیں مانا کرتا۔اور کسی چیز کو صرف دلیلوں کے زور سے منوانے کی کوشش کرنا قلوب کو مسخر نہیں کر سکتا۔جب تک ہم اسلامی احکام پر چل کر اور اس کی نواہی سے