مضامین ناصر — Page 62
۶۲ حصول سے محروم ہو گئی جو اس سے حاصل کئے جاسکتے تھے۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انسانی فطرت کے لطیف جذبات کو پائمال کر کے انسان کو با اخلاق بنانے کی بجائے اسے ایک وحشی کے مقام پر لا کھڑا کیا۔ماں باپ کا بچوں سے پیار بچوں کی والدین سے محبت ، بھائی بہن کی بھائی بہنوں سے اخوت۔یہ سب فطری جذبات ہیں۔جن کا اس دنیا میں آخری اظہار مرنے والے کی اس تمنا میں ہوتا ہے کہ اس کی کمائی میں اس کے عزیز واقارب شریک ہوں۔مگر نہیں۔لطیف عائلی جذبات کے لئے اشتراکیت میں کوئی جگہ نہیں۔(۶) نظام زرمٹا دیا اقتصادی مساوات کے قیام کا چھٹا ذریعہ مارکس کے نزدیک یہ ہے کہ زر سکتے یا روپے کے نظام کو درہم برہم کر دیا جائے۔اور اس کی جگہ تمام لین دین اجناس کی صورت میں ہو۔مزدور کو روزانہ کے کام کی ایک پر چی مل جائے اور اس کے مطابق وہ اشیاء وصول کر سکے۔یہ اس لئے کہ اگر روپیہ میں مزدوری دی جائے تو امیر و غریب میں تفریق پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔زیادہ روپیہ حاصل کرنے والا خواہ یہ زیادتی اس کی ضرورت کے مطابق ہی کیوں نہ ہو، امیر سمجھا جائے گا اور کم نقدی لینے والا خواہ یہ اس کی ضرورت کو پورا ہی کیوں نہ کر دیتی ہو۔غریب سمجھا جائے گا۔نیز جس شخص کو روپیہ دیا جاتا ہے وہ اپنی مرضی سے کم یا زیادہ خرچ کر سکتا ہے اور ضروریات زندگی میں تنگی برداشت کرتے ہوئے عشرت کے بعض ایسے سامان خرید سکتا ہے۔جو ایک دوسرا شخص نہیں خرید سکتا جس کی آمد روپیہ میں اس کی نسبت کم ہو۔روسی اشتراکیت کے پروگرام کی وضاحت کرتے ہوئے ۱۹۱۹ء میں Bucharin نے کہا کہ ہمیں یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ روپیہ کی اہمیت اسی نسبت سے کم ہوتی جارہی ہے جس نسبت سے کہ اصول مزدوری ترقی کر رہے ہیں۔گو اس میں بہت سی مشکلات ہیں مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پیداوار پر مزدوری کا ضبط جوں جوں بڑھتا جائے گا۔توں توں روپیہ کی ضرورت کم ہوتی چلی جائے گی۔اور آخر کا ر روپیہ کا استعمال کلی طور پر مفقود ہو جائے گا۔اسی طرح Krestinski نے ۱۹۱۹ء میں