مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 239

مضامین ناصر — Page 57

صبح صادق کا طلوع ۵۷ جب دنیا اسلامی تعلیم کو بھلا بیٹھی۔دنیا میں اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا۔روحانیت مفقود ہوگئی۔تمدن اور معاشرت روحانی اصول پر قائم نہ رہے۔ظلمت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی تو اشتراکیت نے کارل مارکس کے نظریوں میں اپنا جنم لیا۔کارل مارکس ۵ مئی ۱۸۱۸ء میں پیدا ہوا۔اور ۱۴ / مارچ ۱۸۸۳ کو مرا۔آج اشتراکیت سے مراد مارکس کے اقتصادی نظریوں سے ہے اور روس کا یہ دعوی ہے کہ وہ کارل مارکس کے اقتصادی نظریوں پر عمل پیرا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ اشتراکیت کے باپ کے مرنے کے معا بعد صبح کا ذب کے غائب ہوتے ہی ۱۸۸۹ء میں جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الأَنْبِيَاءِ نے جماعت احمدیہ کی بنیا درکھی۔اور وہ صبح صادق طلوع ہوئی جس کے سامنے صبح کا ذب کا وجود ٹھہر نہیں سکتا۔مارکس کا نظریہ (Marxism is dead p۔24) مارکس کا نظریہ ہے کہ سرمایہ داری میں غریب مزدور کے حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔اس سے بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور صرف چھ گھنٹے کی مزدوری دی جاتی ہے۔اس نے اپنے اس نظریہ کی بنیاد اس فلسفیانہ اصول پر قائم کی ہے کہ کمیت بڑھتے بڑھتے ایک خاص نقطہ پر پہنچ کر کیفیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔روپیہ جب پیداوار میں لگایا جاتا ہے تو اس کی کثرت ایک خاص مقام پر سرمایہ داری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔جس میں سرمایہ دار مزدور کو لوٹتا اور سرپلس ویلیوSurplus Value کوخود ہضم کر جاتا ہے۔سرمایہ داروں کی پارٹی جتنی جتنی امیر ہوتی جائے گی۔مزدور کی غربت میں اتناہی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔جوں جوں سرمایہ داری ترقی کرتی جائے گی۔غریب کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی چلی جائے گی اور ایک ایسا وقت آئے گا جب غریب کے لئے یہ حالت نا قابل برداشت ہو جائے گی۔اس وقت وہ بغاوت پر اترے گا اور سرمایہ داری کو ہٹا کر جماعت مزدوراں کی حکومت قائم کرے گا۔یہ