مضامین ناصر — Page 46
{ ۴۶ عیسائیت اور اسلام میں ایک نمایاں امتیاز وه جرم و سزا‘ کے بارے میں اسلام کی پاکیزہ تعلیم تورات نے ہر موقع و ہر حل پر سزا کا سبق دیا۔ہر قصور کے نتیجہ میں سزا کا مترتب ہونا لازمی قرار دیا۔انجیل نے اس کے برعکس صرف علم اور در گذر پر زور دیا۔یہودیت و عیسائیت نے انسانی قوی کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ پر زور دیا اور باقی شاخوں کو کلیتا نظر انداز کر دیا۔ان ہر دو کے بالمقابل ایک پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتا ہے۔کبھی تو عفو اور درگذر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو۔اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔اور بہترین تعلیم یہی ہے کیونکہ ”خدا تعالیٰ کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں۔یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے۔ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔نہ یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اور قول سے کچھ اور ظاہر ہو۔خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگذر نہیں۔بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزایاب بھی کرتا ہے۔ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔ہمارا خدا صرف حلیم خدا نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کا قہر بھی عظیم ہے۔سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور سچا قول الہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں۔ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ حلم اور درگذر کا معاملہ کیا ہو اور کوئی