مضامین ناصر — Page 36
۳۶ ہے۔اس سے بھی مجاہدہ نفس کی افضلیت ظاہر ہے۔ضمناً یہ بات بھی ذکر کر دینا ضروری ہے کہ مختلف احادیث میں مختلف چیزوں کو سب سے بڑا جہاد کہا گیا ہے۔کبھی آپ یہ فرماتے ہیں کہ حج سب سے افضل جہاد ہے اور کبھی فرماتے ہیں کہ ظالم بادشاہ کے سامنے سچی باتیں کہنا سب سے افضل جہاد ہے اور کبھی یہ کہ دین کی راہ میں مارا جانا سب سے افضل جہاد ہے۔پس ان احادیث میں بظا ہر تناقض ہے اور اس کو اس وقت تک حل نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ ہم جہاد کی ان تین قسموں کو اپنے سامنے نہ رکھیں۔میں ان احادیث کا اپنی اپنی جگہ ذکر کروں گا اور ان کا اپنی اپنی جگہ پر رکھنا ہی ان کا حل ہے۔فَتَدَبَّرُوا۔بخاری میں ہے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ يَارَسُولَ اللَّهِ نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلُ الْعَمَلِ اَفَلَا نُجَاهِدُ فَقَالَ لَكِنْ أَفْضَلُ الْجِهَادِ حَجٌ مَبْرُورٌ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ یارسول اللہ ! ہم عورتیں دین کی خاطر جنگ کو تمام نیکیوں سے افضل خیال کرتی ہیں، پس کیا ہم جنگ میں شرکت نہ کیا کریں۔تو آپ نے جواب دیا ( اور جواب بہت جامع اور قابل غور ہے ) کہ سب سے افضل جہاد حج مبرور ہے۔سوال میں تھا أَفْضَلُ العَمَلِ “ سب نیک کاموں سے افضل، جواب میں آپ فرماتے ہیں۔افضل الْجِهَادِ “۔اس جواب میں بڑے لطیف طریق پر سائلہ کی غلطی کو دور کیا گیا۔سوال یہ کیا گیا نیکی کے کاموں میں سے صرف ایک کام کو ہم جہاد کہتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی خاطر جنگ کرنا ہے۔جواب یہ دیا جاتا ہے کہ تم صرف جنگ کو جہاد کیوں کہتی ہو تمام نیک کام جہاد میں شامل ہیں کیونکہ جواب میں أَفْضَلُ الْعَمَلِ حَجٌ مَبْرُورٌ کی بجائے "أَفْضَلُ الْجِهَادِ حَجٌ مَبْرُورٌ فرمایا۔اگر یہ صحیح ہونے کے بعد سوال پوچھا جاتا تو یہ ہوتا کہ ہم عورتیں جہاد کی مختلف قسموں میں سے جنگ کو افضل سمجھتی ہیں۔کیا ہم جنگ نہ کیا کریں؟ تو اس کا جواب آپ یہ دیتے ہیں کہ تم جنگ کو افضل الجہاد سمجھنے میں غلطی کرتی ہو افضَلُ الْجِهَادِ تو مجاہدہ نفس ہے اور مجاہدہ نفس کے لئے جن اعمال کی ضرورت ہے ان میں سے عورتوں کے لئے حج مبرور سب سے افضل ہے ( حقیقت تو یہ ہے کہ حج مبرور میں تمام نیکیاں