مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 25 of 239

مضامین ناصر — Page 25

۲۵ رہے ہیں تم دیکھو۔ان نئے مصلحین کا تعلق (خصوصاً نفاق ظاہر ہونے کے بعد ) کن گروہوں سے ہے۔اگر یہ لوگ اصلاح کا دعویٰ کرنے کے باوجود پیغامیوں سے یا مستریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر ان کے اشتہار پیغا می تقسیم کرتے ہیں۔اگر منشی فخر الدین مستری عبدالکریم سے دوستانہ گفتگو میں منہمک نظر آتے ہیں تو بات صاف ہے کہ یہ لوگ بھی ان ہی لوگوں میں سے ہوں گے اور چونکہ ان پرانے منافقین کی منافقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے اور اس میں تمہیں کوئی شک نہیں۔اس لئے تمہیں اس نئے گروہ کے نفاق میں بھی شبہ نہ ہونا چاہیے اور ان کے معاملہ میں تمہیں نرمی نہ دکھانی چاہیے۔(فَاغْلُظْ عَلَيْهِمُ ( اگر تمہیں اس میں شک نہیں کہ مستری عبد الکریم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کا منکر ہے۔اگر تم اس میں شبہ کی گنجائش نہیں پاتے کہ پیغامی پارٹی اللہ تعالیٰ کے رسول اور نبی کی حقیقی تعلیم کو چھپانے والوں اور اس تعلیم کی حقانیت میں شک کرنے والوں کا فرقہ ہے تو تمہیں اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ شیخ مصری صاحب اور ان کے چیلے بھی پہلے منافقین کی طرح شیطانی ہاتھ میں ایک ہتھیار ہیں اور ان کا انجام بھی وہی ہو گا جو پہلوں کا ہوا۔سوعبرت کا مقام ہے۔چودھویں علامت چودھویں علامت منافق کی اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يحكمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ (النساء ۲۲) چونکہ اس کی تفسیر اور اس کا منافقین پر اطلاق احباب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے خطبہ میں پڑھ چکے ہیں۔مجھے اس کے متعلق زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔البتہ ضمناً ایک بات بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ مقدمہ کے متعلق منشی فخر الدین نے کہا ہے کہ (۱) پہلے خلفاء لوگوں کی تکالیف چھپ چھپ کر معلوم کرتے تھے مگر (۲) یہاں معاملہ اور ہے۔(الفضل ۲۸ / جولائی) گو بظاہر اس فقرہ کا پہلا حصہ سچ ہے اور دوسرا حصہ صحیح نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ پہلا حصہ بھی جن معنوں میں لیا گیا ہے وہ خلفاء راشدین پر ایک بہتان ہے اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔اس میں شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء علیہم السلام سب ہی حسب ضرورت پوشیدہ طریقوں سے