مضامین ناصر — Page 21
۲۱ موقعہ مل جائے پھر دیکھنا۔ضرور ہماری بات سنی جائے گی۔اور ہم عزت اور رسوخ رکھنے والے (اپنے زعم میں ) ضرور کامیاب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل عزت تو خدا اور اس کے رسول کی ہے پھر خلیفۃ الرسول کی جو رسول کا جانشین ہو۔مگر منافق اپنی فراست کی کمی کی وجہ سے اس کے معلوم کرنے سے قاصر ہیں اور حالات اور مومنین کی چاروں طرف سے پھٹکار ان کو بتا دے گی کہ عزت صرف خدا اور رسول ہی کی ہے۔ہم دور کیوں جائیں خود جماعت احمدیہ کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ عزت صرف خدا اور رسول اور مومنین کی ہے۔منافقین کے حصہ میں سوائے ناکامی اور ذلت کے اور کچھ نہیں۔نویں علامت نویس علامت منافقین کی یہ بتائی کہ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْ ضُوكُمْ ۚ وَاللَّهُ وَرَسُوْلُه أَحَقُّ أَنْ تُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ (التوبة:۶۲) کہ اے جماعت مومنین منافق تمہارے پاس قسمیں کھا کھا کر اپنے شکوے بیان کریں گے تا وہ تمہاری ہمدردی حاصل کر سکیں۔چونکہ منافق کو یہ گمان ہوتا ہے کہ اس کا جماعت میں رسوخ ہے اور تکبر کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بہت بڑی ہستی خیال کرتا ہے۔اس وہمی رسوخ کی بنا پر وہ افراد جماعت کے پاس زبانی یا بذریعہ اشتہارات اپیل کرتا ہے۔اور خیال کرتا ہے کہ اس طرح وہ مومنین کی رضا کو حاصل کر لے گا اور خدا کے قائم کردہ رسول یا اس کے خلیفہ کو اسی کی جماعت سے شکست دلانے میں کامیاب ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ حقیقی مومن ہوتے تو چاہیے تھا کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ، اس کی کتاب پر ایمان لاتے اس کی بشارتوں کو جو اس نے اپنے مسیح علیہ السلام کے واسطہ سے جماعت کو مصلح موعود کے متعلق دی تھیں ان کو صحیح تسلیم کرتے ، اور جماعت میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش نہ کرتے ، اور خدا تعالیٰ سے لڑائی نہ لیتے۔اور پھر خدا تعالیٰ کے رسول یا اس کے جانشین کی خوشنودی حاصل کرنے میں کوشاں نظر آتے تا سلوک کی وہ راہیں طے کر سکیں جو بوجہ