مضامین ناصر — Page 20
آٹھویں علامت آٹھویں بات منافقین کے متعلق خدا تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ يَقُولُونَ لَبِنْ رَّجَعْنَا إلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَ الْأَعْزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ (المنافقون: 9) گوبز دلی منافقین کے ساتھ ہر وقت لگی ہوئی ہے مگر ان میں چونکہ تکبر بھی ہوتا ہے اس لئے وہ بعض وقت اپنی کوئی ہستی بھی سمجھنے لگ جاتے ہیں اور انہیں یہ دھوکا ہو جاتا ہے کہ جماعت میں ان کا کوئی رسوخ ہے اور یہ کہ جماعت ان کی بات پر کان دھرے گی۔مندرجہ بالا آیت کریمہ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ بنو مصطلق کے وقت ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نفاق ظاہر ہو گیا اور اس میں جو عجب اور تکبر تھا اور اُسے جو یہ غلطی لگی ہوئی تھی کہ وہ مسلمانوں میں بہت معزز اور مکرم ہے اس کے اظہار کا موقعہ اسے مل گیا اور اس نے اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ یہاں اس سفر کی حالت میں مسلمانوں میں سے صرف ایک چھوٹا سا گروہ موجود ہے اور وہ بھی مہاجرین کا۔مدینہ چل لینے دو۔وہاں مسلمانوں کی اکثریت کی مدد سے میں جوایک رسوخ رکھنے والا انسان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منصب نبوت سے گویا معزول کرا دوں گا۔یہ صرف ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں بلکہ ایک گہر اسبق اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور منافقت کے اس پہلو کا اظہار ہمیں ہر فتنہ نفاق میں نظر آئے گا۔صرف ابن سلول ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معزولیت کے خواب نہ دیکھا کرتا تھا بلکہ اس کے توابع میں سے ہمارے سامنے بھی بعض منافق ایسا کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں کیا مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقا حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ کی معزولیت کے خواب نہ دیکھا کرتے تھے؟ یا کیا آج شیخ مصری صاحب اپنے تکبر اور عزت کے گھمنڈ میں اس وہم میں مبتلا نہیں ہیں کہ خلیفہ ثانی کو خلافت سے معزول کر وا دیں گے اور سنتا ہوں کہ وہ اور ان کے ساتھی اسی کوشش میں اشتہار پر اشتہار شائع کر رہے ہیں۔اور ابن سلول کی طرح بآواز بلند پکار رہے ہیں۔لَئِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ یعنی اگر ہمیں جماعت کے سامنے اپیل کا