مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 239

مضامین ناصر — Page 222

۲۲۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکم تسلیم کرتے ہیں اور آپ کے حکم کے آگے ہماری گرد نہیں خم ہیں، آپ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے کی وجہ سے ہمارے دلوں میں اسلام کی محبت جوش ماررہی ہے، آپ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے دل حضرت نبی اکرم ﷺ کی فدائیت میں تڑپ رہے ہیں، آپ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ اس لئے ہر دم اور ہر آن بے چین رہتے ہیں کہ خدا کی تو حید دنیا سے مٹ چکی ہے، آپ اور صرف آپ ہی ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بشرطیکہ آپ اپنے عہدوں کو پورا کر نیوالے ہوں اسلام کو پھر دنیا میں غالب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس ارض مقدس کی طرح جو موسی" کی قوم کو دی گئی تھی چھوٹی سی بشارت نہیں دی۔آپ کو تو اتنی زبر دست اور عظیم الشان بشارتیں دی گئی ہیں کہ جب انسان ان کو پڑھتا ہے تو ایک طرف اسے اپنی کمزوری اور بے بضاعتی کا احساس ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرتوں اور طاقتوں کا احساس بھی اس کے دل میں پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ان بشارتوں میں سے چند بشارتیں اس وقت میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان بشارتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔(1) سچائی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں گواہی دوں اور میری گواہی بے وقت نہیں بلکہ ایسے وقت میں ہے جبکہ دنیا میں مذاہب کی کشتی شروع ہے۔آخر کار اسلام کو غلبہ ہے۔میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔زمین کے لوگ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ شاید انجام کا رعیسائی مذہب دنیا میں پھیل جائے یا بدھ مذہب دنیا پر حاوی ہو جائے مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں یادر ہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے۔تو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے کہ آخر اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا “۔(ملفوظات) (۲) میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مُردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے۔۔۔میں بھی کا اس غم سے فنا ہو جا تا اگر میرا مولیٰ اور میرا آقا قادر و توانا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا