مضامین ناصر — Page 221
۲۲۱ احیاء وغلبہ اسلام کی ایک نئی بنیاد اس کے بعد بد قسمتی سے مسلمانوں پر پھر ایک زمانہ ایسا آیا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین نہیں رہا۔ان کے دل اخلاص سے خالی ہو گئے۔قرآن کو انہوں نے مہجور کی طرح چھوڑ دیا۔خدا تعالیٰ کو جو قادر مطلق ہے وہ ایک انسان کی طرح عاجز و مجبور ہستی سمجھنے لگے۔قبولیت دعا کے وہ منکر ہو گئے۔الہی تائیدات کو تمسخر اور تحقیر کی نظر سے دیکھنے لگے۔اس طرح انہوں نے اپنے پر آسمان کے دروازے بند کر لئے۔وہ زمین جس کو انہوں نے اپنے خون سے، وہ زمین جس کو انہوں نے اپنی زبانوں سے، وہ زمین جس کو انہوں نے اپنے دل کے اخلاص سے، وہ زمین جس کو انہوں نے اپنی خداداد ذہانت و فراست سے پاک کرنا اور مقدس بنانا تھا اسے انہوں نے اپنے اعمال واخلاق اور عقیدہ کے بگاڑ کی وجہ سے منحوس قرار دے ڈالا۔جب وہ خود ہی بگڑ گئے تو پھر ان کے لئے یہ زمین ، وہ زمین نہ رہی جو محمدعا ہے کی پیدا کردہ تھی اور نہ ان کے لئے وہ آسمان، آسمان ہی رہا جس کے دروازے آنحضرت علی ذریعہ کھولے گئے تھے۔تب اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے آنحضرت مہ کے غلاموں میں سے ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمایا جو آپ کا عاشق صادق تھا اور فنافی الرسول کے ایسے مقام پر پہنچا ہوا تھا کہ جس مقام تک نہ اس سے پہلے کبھی کوئی پہنچا اور نہ آئندہ قیامت تک کوئی پہنچے گا۔اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو پھر دنیا میں غالب کرے گا اور اسلام پھر اسی شان کے ساتھ تمام دنیا پر چھا جائے گا۔جس شان کے ساتھ اس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے دنیا پر محیط ہوکر اخلاص سے، محبت سے، ہمدردی سے، خدا ترسی سے اور قرب الہی کے بل پر حکومت کی تھی۔اسی حکومت کے از سرنو احیاء اور قیام کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔اسلام کی اس عالمگیر حکومت کے از سر نو قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو چنا ہے۔آپ جو اپنے آپ کو احمدیت کی طرف منسوب کرتے ہیں، آپ جو دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے محبت ہے، آپ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ان تمام بشارتوں پر ایمان لائے ہیں جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیں، آپ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم