مضامین ناصر — Page 220
۲۲۰۔سو یہ دوسری انتہا تھی یعنی اطاعت اور فدائیت کی بہترین مثال جو بجز آنحضرت ﷺ کی قوم کے اور کسی نبی کی قوم نے نہ دکھائی۔انہوں نے محض زبان سے دعوی ہی نہیں کیا بلکہ آنحضرت علی کے وجود باجود اور اسلام کی شکل میں انہیں جو نعمت دی گئی تھی اس کی انہوں نے قدرومنزلت کو سمجھا اور ہر وہ قربانی دی اور پوری انشراح صدر کے ساتھ دی جس کا ان سے مطالبہ کیا گیا۔ان کے اس انتہائی بلند کردار اور اعلیٰ ترین ذہنیت کے نتیجہ میں دنیا نے یہ نظارہ دیکھا کہ یہ مسکین لوگ یہ نا دار وغریب لوگ جن کی غربت کا یہ حال تھا کہ جب عبادت میں اپنے رب کے سامنے جھکتے تھے تو عورتوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ذرا دیر کے بعد سجدوں سے سر اٹھایا کرو کیونکہ تمہارے سامنے مردوں کی جو صفیں ہیں ان کے تن پوری طرح ڈھکے ہوئے نہیں ہیں اور سجدہ کرتے وقت وہ ننگے ہو جاتے ہیں، یہی مسکین اور غریب لوگ دیکھتے ہی دیکھتے بحروبر کے مالک بن گئے۔یہ ایک نادار اور بے کس اور بے در قوم تھی لیکن جب انہوں نے اپنے خدا کی آواز پر والہانہ لبیک کہا اور اس انعام کی دل سے قدر کی جو خدا تعالیٰ انہیں دینا چاہتا تھا، جب انہوں نے اپنے دلوں کو اخلاص سے بھر لیا ، جب انہوں نے اپنے اعمال کو صلاحیت کے روشن سے پالش کر کے درخشندہ بنادیا اور خدا تعالیٰ کے حقیقی عبد بن گئے اور اس کی صفات کے مظہر بن گئے تب یہی لوگ دنیا کے جس میدان میں بھی نکلے فتح و ظفر ان کے قدم چومتی چلی گئی ، جہاں بھی گئے قلیل التعداد ہونے کے باوجود فاتح کی حیثیت سے گئے۔بدر کا میدان تو ایک ابتدا تھی۔خدا تعالیٰ نے صدیوں تک ان کے ساتھ یہی سلوک کیا اور دنیا صدیوں تک ان کی فتح و ظفر کا نظارہ دیکھتی چلی گئی۔قیصر و کسریٰ کو انہوں نے زیر کیا، افریقہ پر وہ چھا گئے ، سپین کو انہوں نے فتح کیا، سلی کو انہوں نے اپنا رنگیں بنایا۔ادھر مشرق کا رخ کیا تو ہندوستان چین اور اس کے اوپر کے علاقوں میں گھستے چلے گئے حتی کہ روس کے ایک بڑے علاقے میں بھی جا گھسے۔جہاں بھی گئے تھوڑی تعداد میں گئے ، کمزور حالت میں گئے لیکن اس یقین کے ساتھ گئے کہ ہم کمزور ہونے کے باوجود فتحیاب ہوں گے اور اس لئے فتحیاب ہوں گے کہ جس خدا پر ہم ایمان لائے ہیں اور جس کی اطاعت کو ہم نے لازم پکڑا ہے وہ کمزور نہیں ہے وہ کہتا ہے کہ تم فاتح ہو قدم بڑھاتے ہوئے فاتحانہ انداز میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ۔چنانچہ وہ مشرق و مغرب میں فاتحانہ انداز میں بڑھتے چلے گئے۔انہوں نے ملک ہی فتح نہیں کئے بلکہ قوموں کے دلوں کو بھی فتح کر دکھایا۔