مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 239

مضامین ناصر — Page 216

۲۱۶ ہونے کا حکم اسی لئے دیا گیا تھا کہ وہ زمین ناپاک تھی ، وہ گناہوں سے بھری ہوئی تھی ، وہاں کے رہنے والے اپنے رب کو بھول چکے تھے ، اس سے اپنا تعلق منقطع کر چکے تھے، اس کے قرب کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور اس کے لئے اپنے دلوں میں کوئی اخلاص نہیں رکھتے تھے۔خدا تعالیٰ نے اپنے بندے موسیٰ سے کہا کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اس زمین کو مقدس بناؤں۔پس تو اپنی قوم سے کہہ دے کہ تم جاؤ اور اپنے خونوں سے اس زمین کو مقدس بناؤ اور وہاں آباد ہو کر اس کی فضا کو خدا تعالیٰ کے ذکر سے اُس کی تحمید سے اُس کی تمجید سے اور اُس کی تکبیر سے بھر دو۔تمہارے ایسا کرنے سے وہ زمین مقدس بن جائے گی۔پہلے وہ زمین مقدس نہیں تھی۔اس میں داخل ہونے کے بعد جب وہ خدا تعالیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے تو وہ زمین مقدس ہو جاتی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معرفت ان سے کہا کہ ہم نے تم پر انعام کرنے کا فیصلہ کیا ہے سو تم اس ارض میں داخل ہو اور اس طرح داخل ہو کہ وہ زمین تمہارے خونوں سے سیراب ہو کر اور اس کی فضا تمہارے ذریعہ ذکر الہی سے معمور ہو کر مقدس بن جائے۔لیکن ہوا کیا ؟ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔انہوں نے خدائی حکم کے جواب میں کہا تو یہ کہا کہ اگر خدا تعالیٰ نے انعام کے طور پر ہمیں یہ زمین دینی ہے تو پھر ہمارا خون بہانے سے کیا مطلب؟ اے موسیٰ تیرا خدا اور تو جا اور اس زمین پر قبضہ کر۔جو قو میں وہاں رہتی ہیں اور جن کے متعلق تو کہتا ہے کہ وہ گنہ گار ہیں انہوں نے اپنے گناہوں سے اس زمین کو نا پاک اور منحوس بنادیا ہے تو جا کر اپنے خدا کی مدد سے ان کو ہلاک کر۔جب وہ زمین ناپاک وجودوں سے خالی ہو جائے گی تو ہم ناکارہ اور قربانی سے جی چرانے والے مقدس وجود وہاں جا کر آباد ہو جائیں گے اور ہمارے وہاں جا کر آباد ہونے سے وہ زمین ارض مقدسہ بن جائے گی۔یہ تھا وہ جواب جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے خدائی حکم سننے کے بعد دیا۔ان کا یہ جواب سن کر اللہ تعالیٰ نے کہا تمہارا کردار اور تمہاری ذہنیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمہیں کسی جگہ بھی آباد نہ کیا جائے اور کوئی جگہ بھی تمہارے وجود سے ناپاک نہ ہو۔جب تک تمہارے