مضامین ناصر — Page 210
۲۱۰ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی بے انداز اہمیت محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے انصار اللہ کے نویں سالانہ اجتماع منعقدہ یکم تا ۳ رنومبر ۱۹۶۳ء کے موقع پر احباب کو اپنے اختتامی خطاب سے نوازنے سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب وملفوظات کی عظمت واہمیت پر بہت ہی دلنشین انداز میں روشنی ڈالی تھی اور احباب کو ان کا بار بار اور بالاستیعاب مطالعہ کرنے اور اس طرح ان کی زندگی بخش تاثیرات سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلائی تھی۔آپ کے اختتامی خطاب کا یہ ابتدائی حصہ افادہ عام کی غرض سے ذیل میں ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔(ادارہ) قبل اس کے کہ میں وہ بات شروع کروں جو مجھے اس وقت آپ دوستوں کے سامنے رکھنی ہے میں ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔مجھ سے کہا گیا ہے کہ میں جماعت کے دوستوں تک یہ خوشخبری پہنچا دوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جلد پنجم بھی شائع ہوگئی ہے اور یہ کہ احباب اس موقع پر ملفوظات کی دیگر جلدوں کے ساتھ یہ جلد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات، تقاریر، اور ارشادات اس وقت کئی شکلوں میں ہمارے سامنے ہیں۔ایک تو وہ کتب ہیں جو حضور نے اپنے قلم معجز رقم سے خود تحریر فرما ئیں۔دوسرے وہ مسحور کن نظمیں ہیں جو حضور نے عربی یا فارسی یا اردو میں لکھیں۔ان نظموں کے مجموعے عربی ، فارسی اور اردہ میں علیحدہ علیحدہ چھپے ہوئے ہیں۔ان کی اپنی ایک خصوصیت اور جدا گانہ شان ہے۔مثلاً در نشین اردو ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔بچے بھی اسے بہت شوق سے پڑھتے ہیں اور