مضامین ناصر — Page 204
۲۰۴ سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی اولا د ہو۔کیونکہ اولاد کا ہونا نہ صرف عورت کی احتیاج کو ثابت کرتا ہے بلکہ اولا د کا وجود خود اپنے نفس کے فانی ہونے کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔چنانچہ دنیا میں کوئی ایسی ہستی جو اپنی پیدائش کی غرض کے پورا ہونے تک زندہ رہنے والی ہو اولاد نہیں رکھتی اور نہ اس کی نسل آگے چلتی ہے۔جیسے سورج، چاند، پہاڑ، زمین وغیرہ لیکن انسان، حیوانات، نباتات اپنی ضرورت کے پورا ہونے سے پہلے مر جاتے ہیں۔اس لئے ان کی نسل بھی چلتی ہے۔پس اس آیہ میں یہ بتا کر کہ خدا تعالیٰ کی ذات کسی دوسرے کی نسل سے نہیں اور نہ اس سے کوئی نسل چلی ہے۔اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ وہ غیر فانی ہے اور اپنے ذات میں مکمل ہے اور احد ہے کیونکہ اس آیہ نے مذکورہ بالا دونوں قسم کے تعلقات کی نفی کر دی اور اس طرح ایک طرف تو اس کی صمدیت کا ثبوت دے دیا اور دوسری طرف اس کی احدیت کا۔پھر فرمایا کہ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ یعنی صرف یہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی کا بیٹا نہیں یا خدا تعالیٰ کا آگے کوئی بیٹا نہیں بلکہ اس کا مماثل اور مشابہ بھی کوئی نہیں۔نہ اس کی ذات میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں اس کا کوئی شریک ہے کیونکہ ساری دنیا میں ہمیں ایک ہی قانون چلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔کوئی دو مستقل اور متوازی سکیمیں اور قانون دنیا میں نہیں چل رہے جس سے کسی کفو کا ہمیں ثبوت ملے۔نیز قانون جب ایک ہی ہے تو دو مماثل ہستیاں جو ایک سی خدائی طاقت رکھتی ہوں ان کا وجود باطل ہو جاتا ہے۔یہ سورۃ دہریت اور عیسائیت جیسے خطرناک فتنوں کو مٹانے اور اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی احدیت کو ثابت کرنے کے لئے اور تمام قوموں کو ایک نقطہ ء مرکزی پر جمع کرنے کے لئے نازل کی گئی وو ہے کیونکہ وہ خدا رب العالمین خدا ہے اور سزاوار ہے اس بات کا کہ سب اقوام عالم اس ”ایک اور یکتا کے جھنڈے تلے جمع ہوں اور ساری دنیا اس کی حمد کے ترانہ سے گونجنے لگے۔اے خدا! اپنے اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں ہمیں اپنا خادم بنا۔آمین (مرزا ناصر احمد ) (ماہنامہ انصار الله ر بوه مارچ ۱۹۶۴ء صفحه ۳۹ تا ۴۱)