مضامین ناصر — Page 178
۱۷۸ کوئی کام کریں انہیں چاہیے کہ وہ اس کے سارے پہلوؤں کو سوچ لیں اور کوئی بات بھی ایسی نہ رہے کہ جس کی طرف انہوں نے توجہ نہ کی ہو۔یہی نقص ہے جس کی وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ روحانیت میں بھی ہمارے آدمی بعض دفعہ فیل ہو جاتے ہیں۔۔۔حقیقی دین تو ایک مکمل عمارت کا نام ہے مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم مکمل عمارت کا فائدہ صرف ایک دیوار سے حاصل کرنا چاہتے ہو۔(الفضل ۲۱ / مارچ ۱۹۳۹ء) سچ یہ ہے کہ وسعتِ نظر اور ذہن رسا حقیقی نظم و ضبط اور کامل اطاعت پیدا کرتا ہے اور ذہین اور وسیع النظر نو جوان ہی تنظیم کے سب مطالبوں کو پورا کر سکتا ہے۔یہ بھی نہ بھولو کہ محبت بے شک پہلی چیز ہے جو ذہانت پیدا کرتی ہے۔مگر دوسرا حصہ ذہانت کا سزا سے مکمل ہوتا ہے“۔(الفضل ۱۵/ مارچ ۱۹۳۹ء) پس اپنے فرائض کو تندہی اور خوش اسلوبی سے سرانجام دو اور اگر کبھی کوئی کوتاہی یا خطا ہو جائے تو بشاشت کے ساتھ سزا اور ذریعہ اصلاح کو قبول کرو۔کہ ہمارے امام کا فرمان ہے اور یہی سچ ہے کہ ” سزا نوع انسان کے لئے ایک رحمت کا خزانہ ہے۔(الفضل ۲۱ / مارچ ۱۹۳۹ء) وقار عمل کو اپنا طرہ امتیاز بناؤ اور ہاتھ سے کام کرنے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھو۔کسی کام کو ذلیل نہ سمجھو۔ایک پروگرام کے ماتحت سڑکوں پر بھرتی ڈال کر انہیں ہموار کرو اور محلہ کے گڑھوں کو پر کرو۔چاہیے کہ ہماری گلیاں ظاہری گندگی سے بھی پاک ہوں اور ہمارے محلوں میں کوئی گڑھا نظر نہ آئے تاکہ روحانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ہم جسمانی بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں۔دنیا بعض کا موں کو بُرا اور معیوب سمجھتی ہے تم کسی جائز کام کے متعلق یہ نہ سمجھو کہ وہ برا ہے۔کیونکہ کام کرنے کی عادت ڈالنا ہی نہایت ضروری ہے۔تا جو لوگ سُست ہیں وہ بھی چست ہوجائیں اور ایسا تو کوئی بھی نہ رہے جو کام کرنے کو عیب سمجھتا ہو۔جب تک ہم یہ احساس نہ مٹادیں کہ بعض کام ذلیل ہیں اور ان کو کرنا بہتک ہے یا یہ ہاتھ سے کما کر کھانا ذلت ہے۔اس وقت تک ہم دنیا سے غلامی کو نہیں مٹا سکتے۔(الفضل ۱۷ / مارچ ۱۹۳۹ء)