مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 239

مضامین ناصر — Page 156

۱۵۶ تیسرا کام مسیح کا یہ ہے کہ ایمانی نور کو دنیا کی تمام قوموں کے مستعد دلوں کو بخشے اور منافقوں کو مخلصوں سے الگ کر دیوے۔سو یہ تینوں کام خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے سپرد کئے ہیں اور حقیقت میں ابتدا سے یہی مقرر ہے کہ مسیح اپنے وقت کا مجد دہوگا اور اعلیٰ درجہ کی تجدید کی خدمت خدائے تعالیٰ اُس سے لے گا اور یہ تینوں امور وہ ہیں جو خدائے تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے جو اس عاجز کے ذریعہ سے ظہور میں آویں سو وہ اپنے ارادے کو پورا کرے گا اور اپنے بندہ کا مددگار ہوگا۔(ازالہ اوہام صفحه ۵۹،۵۸- روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۳۲،۱۳۱) اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بعثت کے مقصد کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔اوّل اسلام کی حقانیت دوسری قوموں پر ثابت کرنا۔دوم بطور حکم فیصلہ کر کے اعتقادی اختلافات کو دور کرنا۔سوم اپنی قوت قدسیہ کے ذریعے عملی طور پر ایک جماعت قائم کرنا اور اس جماعت کی عملی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھالنا۔ان ہر سہ گونا مقاصد سے ظاہر ہے کہ ہمیں سب سے اوّل جماعت کے ساتھ وابستہ رہ کر اپنی عملی زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا ہے اور پھر اسلام کو دوسری قوموں تک پہنچا کر ان پر حجت پوری کرنی ہے۔اس کام کو باحسن وجوہ انجام دینے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور حکم اعتقادی اختلافات کو دور کر کے امن کی بنیاد قائم فرما دی ہے۔آپ کو حکم بھی قرار دیا گیا ہے اور امن کا شہزادہ بھی یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔اس لئے کہ حکم اختلاف دور کرنے والے کو کہتے ہیں اور جو اختلاف دور کرتا ہے وہی امن قائم کرنے والا ہوتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعتقادی اختلاف کو دور کر کے قیام امن کی راہ ہموار کر دی ہے اور دوسری طرف صداقتِ اسلام کے ایسے محکم دلائل ہمیں دیئے ہیں کہ جن کے آگے دوسرے مذاہب والے ٹھہر ہی نہیں سکتے۔اب ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ایسا بنا ئیں کہ ہم سر سے پا تک اسلام کی عملی تصویر ہوں۔ہم اسلام کا جو اپنی گردن پر بشاشت کے ساتھ اٹھا ئیں اور اپنی روز مرہ کی زندگیوں میں زندہ خدا پر زندہ ایمان کا مظاہرہ کریں اور اس طرح اپنی ہستی پر پورا پورا