مضامین ناصر — Page 136
۱۳۶ (۲) نماز سے پہلے وضو ضروری ہے، کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، پس ہاتھوں کو خوب اچھی طرح دھو کر کھاؤ کہ اس سے روح کی پاکیزگی کا تقاضا بھی پورا ہوگا اور جسمانی صحت بھی قائم رہے گی۔(۳) اپنے حالات ، عادات، رواج، یا وقتی ضرورت کے ماتحت کھانے کے برتن زمین پر رکھ کر کھاؤ، یا دستر خوان بچھا کر ، یا میز پر مگر اس بات کا خیال رکھو کہ کھانا وقار کے ساتھ چنا جائے اور وقار کے ساتھ کھایا جائے۔بے تکلف اور بے ریا۔(۴) کھانے پر وقار کے ساتھ بیٹھو۔لیٹ کر یا خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کھانا نہ کھاؤ۔(۵) زبان کے چسکے کے لئے نہ کھاؤ، تقویٰ کی نیت سے اور اس ارادہ سے کھانا کھاؤ کہ کھانے سے ہمارے جسم میں قوت پیدا ہوگی اور نیک اعمال بجالانے میں سہولت۔اگر اس نیت سے کھاؤ گے تو ضرورت کے مطابق کھاؤ گے، ضرورت سے زیادہ نہ کھاؤ گے۔جب کھانا برائے کھانا نہ ہوگا تو پھر جب بھوک لگے گی کھاؤ گے اور اتنا نہ کھاؤ گے کہ بد ہضمی ہو جائے۔(۶) جو کھانا بھی چنا جائے اسے خوشی سے کھاؤ اور اسی سے لذت اور قوت حاصل کرو اور اچھے کھانوں کے حریص نہ ہو اور جہاں تک ہو سکے دوسروں کو کھانے میں شامل کرو کہ ہمارے پیارے رسول نے فرمایا ہے کہ اگر بہت سے مل کر کھائیں تو خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالتا ہے۔نیز فرمایا کہ اچھا کھانا تو وہی ہے کہ جسے بہت سے لوگ مل کر کھائیں خواہ وہ گھر والے ہی کیوں نہ ہوں۔ہم نے دیکھا ہے کہ بعض گھروں میں باپ یا ماں اچھے اچھے کھانے اپنے لئے چھپا کر رکھ لیتے ہیں اور بچوں کو دکھاتے تک نہیں۔اسلام اسے پسند نہیں کرتا۔(۷) کھانا شروع کرنے سے پہلے اونچی آواز میں بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ پڑھو اور کھانا ختم کرنے پر اونچی زبان سے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہو۔اور کھانے کے دوران نیکی کی باتیں اور خدا تعالیٰ کے حمد اور شکر کے تذکرے کرتے رہوتا کھانے کے ساتھ ساتھ خدا کی حمد بھی تمہارے جسموں کا جزو بن جائے اور تمہاری نسلیں بھی اس کی وارث ہوں۔