مضامین ناصر — Page 135
۱۳۵ کھانا پینا اسلام بڑا ہی پیارا مذہب ہے۔اس نے ہمارے دنیوی کاموں کو بھی اگر ہم اس کے بتائے ہوئے احکام پر چلیں ، مذہبی رنگ دے دیا اور ثواب کا موجب ٹھہرایا ہے۔انسانی زندگی کا مقصود خدا کی عبادت اور اس کی رضا کا حصول ہے جس کیلئے صحیح تعلیم کا جاننا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے اور حصول علم کے لئے جو محنت کرنی پڑتی ہے اور اعمال صالحہ بجالانے پر انسانی جسم کو جو مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔اس کے لئے جسمانی قوت و توانائی ضروری ہے۔نہیں تو پھر مسیح کی طرح یہ کہنا پڑے گا کہ روح تو چاہتی ہے مگر جسم برداشت نہیں کرتا۔اب جسم کی صحت و سلامتی کا انحصار بہت سی چیزوں پر ہے جن میں سے ایک کھانا پینا ہے۔اسی لئے بعض صلحائے امت کا یہ قول مشہور ہے کہ کھانا بھی مذہب کا ایک جزو ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا (المومنون: ۵۲) یعنی صاف اور ستھری اور میزان میں پوری اترنے والی (balanced) غذائیں کھاؤ تا بشاشت سے اعمال صالحہ بجالا سکو اور علم و عمل کے میدان میں تمہاری کوششیں ان تھک ہوں۔پس جس کھانے میں نیت رضائے الہی ہو وہ چوپایوں کا کھانا نہیں ہوسکتا اور خدا کے لئے کھانا وہ کھانا ہے جس میں شرع کے بتائے ہوئے احکام اور دین کے سمجھائے ہوئے آداب ملحوظ ہوں۔آؤ دیکھیں یہ آداب کیا ہیں :۔(1) صرف حلال ہی نہیں بلکہ طیب کھانا کھاؤ۔جس کے کمانے ، پکانے اور کھانے میں مکروہات میں سے کوئی چیز شامل نہ ہو اور جو صحت کو قائم رکھنے والا اور ان ضروریات کو پورا کرنے والا ہو جن کا تقاضا جسم موجودہ دور زندگی میں کر رہا ہے۔یادرکھنا چاہیے کہ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طیبات مختلف ہیں۔