مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 499 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 499

مضامین بشیر جلد چہارم 499 جارہی ہے۔مقامی جماعتوں کی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں دوستوں میں بڑے اضطراب اور رنج و غم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔مگر بہر حال انہیں چاہئے کہ پُر امن رہتے ہوئے دعاؤں میں لگے رہیں۔( محررہ یکم مئی 1963ء) (روز نامہ الفضل 3 مئی 1963ء) 3 مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی عظیم الشان اسلامی خدمات سمجھدار قدرشناس مسلمانوں کی طرف سے برملا اعتراف جس وقت مقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنا خداداد مشن دنیا کے سامنے پیش کیا اس وقت پاک و ہند کے بر عظیم کے مسلمانوں کی حالت سخت ناگفتہ بہ ہورہی تھی اور اسلام صرف برائے نام رہ گیا تھا اور کوئی اس کا پرسانِ حال نہیں تھا۔ایسی حالت میں عیسائیوں نے اور آریوں نے اسلام اور مسلمانوں کی کمزور حالت کو دیکھتے ہوئے اور اسلامی تعلیم کے متعلق ان کی بودی تشریحات پر نظر رکھتے ہوئے اسلام پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دئیے تھے گویا کہ وہ خاکش بدہن اسلام کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ایسے نازک وقت میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے خدا تعالیٰ سے نصرت پا کر اور اسی سے حکم حاصل کر کے اسلام کا دفاع شروع کیا اور نہ صرف اسلام کا دفاع کیا بلکہ مسیحیت اور آریہ مذہب کے ایسے پول کھولے کہ دنیا حیران ہو کر رہ گئی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا یہ کارنامہ ایسا شاندار تھا کہ مخالف بھی عش عش کر اٹھے اور ان کی زبانوں پر ایسے فقرے بے اختیار آنے لگے کہ مرزا صاحب نے مذہبی مناظرے کا بالکل رنگ ہی بدل دیا ہے۔چنانچہ میں اس جگہ اخبار کرزن گزٹ دہلی تاریخ یکم جون 1908ء کا ایک اقتباس درج کرتا ہوں جو اس کے غیر احمدی بلکہ مخالف ایڈیٹر نے حضرت مسیح موعود کی وفات پر اپنے اخبار میں چھاپا۔اخبار کرزن گزٹ نے لکھا کہ۔" مرحوم مرزا کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلے میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرے کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ ایک محقق ہونے کے ہم اس بات کا